105 ضروری ادویات کی قیمتوں میں تاخیر، قلت کا خدشہ بڑھ گیا

0
22
105 ضروری ادویات کی قیمتوں میں تاخیر، قلت کا خدشہ بڑھ گیا

اسلام آباد: پاکستان میں 105 اہم اور ضروری ادویات کی قیمتوں پر نظرثانی کا معاملہ دو سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہے، جس کے باعث متعدد جان بچانے والی ادویات کی دستیابی متاثر ہونے لگی ہے۔

فارماسیوٹیکل شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق ان ادویات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے متعلق سفارشات وفاقی حکومت کی منظوری کی منتظر ہیں۔ صنعت کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں پر بعض ادویات کی تیاری جاری رکھنا کمپنیوں کے لیے معاشی طور پر مشکل ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق ’ہارڈ شپ کیٹیگری‘ میں شامل بعض ادویات کی قلت بالخصوص کینسر، امراض قلب، گلوکوما اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

قلت کا سامنا کرنے والی ادویات میں شدید کینسر کے درد کے لیے استعمال ہونے والی اورل مارفین کیپسول، ہارٹ اٹیک کے علاج میں استعمال ہونے والا اسٹریپٹو کائنیز انجیکشن، جبکہ کیموتھراپی میں استعمال ہونے والی سسپلاٹن، کاربوپلاٹن اور ڈوکسی روبیسن شامل ہیں۔

اسی طرح بچوں کے لیے ڈائیگوکسن سیرپ، پائلوکارپین آئی ڈراپس، یلو فیور ویکسین، فولک ایسڈ اور مختلف اقسام کی امیونوگلوبیولن ادویات کی دستیابی بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بدانی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اصل اور معیاری ادویات کی مسلسل قلت سے جعلی اور غیر معیاری دواؤں کی فروخت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خصوصاً مہنگی کینسر کی ادویات کی عدم دستیابی مریضوں کو غیر معتبر ذرائع سے دوا خریدنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں کے معاملے پر متعلقہ کمیٹی سفارشات پیش کر چکی ہے، تاہم حتمی فیصلے میں تاخیر کے باعث دوا ساز اداروں کو ضروری ادویات کی پیداوار برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پی سی ڈی اے نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 105 ادویات سے متعلق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کی سفارشات پر فوری فیصلہ کیا جائے تاکہ کمپنیوں کو پیداوار بحال کرنے اور مارکیٹ میں ادویات کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ضروری ادویات کی قیمتیں اس سطح پر برقرار رہنا ضروری ہے جہاں ان کی بنیادی پیداواری لاگت پوری ہو سکے، بصورت دیگر مارکیٹ میں قلت کا مسئلہ مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

Leave a reply