یونیسیف کی سیکسٹورشن سے متاثرہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے نئی آن لائن مدد

0
11
یونیسیف کی سیکسٹورشن سے متاثرہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے نئی آن لائن مدد

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن جنسی بلیک میلنگ، جسے سیکسٹورشن بھی کہا جاتا ہے، سے متعلق آگاہی اور مدد فراہم کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے معاونت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

یونیسیف کے مطابق سیکسٹورشن ایک سنگین آن لائن خطرہ ہے جس میں کسی شخص کو نجی یا جنسی نوعیت کی تصاویر، ویڈیوز یا چیٹس عام کرنے کی دھمکی دے کر مزید تصاویر، ویڈیوز یا رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہ واقعات مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن ایپس پر پیش آ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں اور نوجوانوں میں خوف، شرمندگی اور ذہنی دباؤ کے باعث اکثر وہ واقعہ کسی کو بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے والدین اور سرپرستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو یقین دلائیں کہ ایسی صورتحال میں انہیں ڈانٹ یا سزا کے بجائے مدد اور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

یونیسیف نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی برہنہ تصاویر بنانے والی ٹیکنالوجی نے اس خطرے کی نوعیت مزید پیچیدہ کر دی ہے۔ کسی حقیقی تصویر کے بغیر بھی جعلی مواد تیار کرکے کسی فرد کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں سے آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں کھل کر بات کریں۔ اگر سیکسٹورشن کا کوئی واقعہ پیش آئے تو بلیک میل کرنے والے کی بات ماننے یا مزید رقم یا مواد فراہم کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد بالغ فرد، متعلقہ پلیٹ فارم، اسکول یا قانون نافذ کرنے والے ادارے سے مدد لی جائے۔

متاثرہ افراد کے لیے ایسی مفت آن لائن سہولیات بھی موجود ہیں جو نجی تصاویر کو انٹرنیٹ سے ہٹانے یا ان کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ یونیسیف نے والدین اور بچوں پر زور دیا ہے کہ وہ آن لائن تحفظ کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور کسی بھی خطرناک صورتحال میں خاموش رہنے کے بجائے فوری مدد طلب کریں۔

Leave a reply