
ہنٹا وائرس ایک خطرناک متعدی بیماری ہے جو عموماً چوہوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس چوہوں کے فضلے، پیشاب یا تھوک کے باریک ذرات کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے، خاص طور پر بند یا غیر صاف جگہوں میں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے کے بعد علامات ظاہر ہونے میں ایک سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ابتدا میں مریض کو بخار، سر درد، جسم اور پٹھوں میں درد، تھکن اور معدے کی خرابی جیسی علامات محسوس ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر لوگ اسے عام فلو سمجھتے ہیں۔
بیماری کا خطرناک مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وائرس پھیپھڑوں کو متاثر کرنا شروع کرتا ہے۔ اس دوران مریض کو سانس لینے میں شدید دشواری پیش آ سکتی ہے اور پھیپھڑوں میں سیال مادہ جمع ہونے لگتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مریض کو بروقت طبی امداد نہ ملے تو شدید علامات ظاہر ہونے کے بعد 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر موت واقع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
فی الحال ہنٹا وائرس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا مکمل علاج موجود نہیں۔ ڈاکٹروں کی کوشش مریض کو آکسیجن، آئی سی یو نگہداشت اور معاون طبی سہولیات فراہم کرنے تک محدود ہوتی ہے تاکہ جسم وائرس کا مقابلہ کر سکے۔
صحت کے ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چوہوں سے آلودہ جگہوں کی صفائی کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بند کمروں یا اسٹورز کی صفائی کے دوران ماسک اور دستانے استعمال کریں۔









