انٹارکٹیکا میں نئے جزیرے کی دریافت، سائنسدانوں نے پہلی بار نقشہ تیار کر لیا

0
12
انٹارکٹیکا میں نئے جزیرے کی دریافت، سائنسدانوں نے پہلی بار نقشہ تیار کر لیا

سائنسدانوں نے انٹارکٹیکا کے شمال مغربی بحیرہ ودل میں ایک نئے جزیرے کی نشاندہی کی ہے، جسے ماضی میں بحری سفر کے لیے خطرناک علاقہ تصور کیا جاتا تھا۔ اس جزیرے کا اب پہلی بار باقاعدہ نقشہ تیار کیا گیا ہے۔

جرمن پولر ریسرچ ادارے Alfred Wegener Institute کی ایک تحقیقی مہم کے دوران ماہرین نے اس مقام کو دریافت کیا۔ تحقیق کا مقصد سمندری برف میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینا تھا، تاہم خراب موسم کے باعث ٹیم نے Joinville Island کے قریب پناہ لی۔

محققین کے مطابق سفر کے دوران سمندری نقشوں میں ایک ایسا علاقہ سامنے آیا جسے “خطرناک زون” قرار دیا گیا تھا، لیکن اس کی اصل نوعیت واضح نہیں تھی۔ بعد ازاں قریبی مشاہدے سے معلوم ہوا کہ وہ کوئی برفانی تودہ نہیں بلکہ چٹانی جزیرہ ہے۔

تحقیقی ٹیم نے جزیرے کے گرد بحری سروے کیا اور ایکو ساؤنڈر اور ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے سمندر کی تہہ کا جائزہ لیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جزیرہ تقریباً 426 فٹ لمبا، 164 فٹ چوڑا اور سطح آب سے تقریباً 16 میٹر بلند ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس مقام کو پہلے “ڈینجر زون” کیوں کہا جاتا تھا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کم ریزولوشن والے سیٹلائیٹ ڈیٹا کی وجہ سے اس علاقے کو خطرناک سمجھا گیا ہو۔

ابھی تک جزیرے کو کوئی باضابطہ نام نہیں دیا گیا، جبکہ اس کے نام کے تعین کے لیے باقاعدہ عمل شروع کیا جائے گا۔

سائنسدانوں کے مطابق بحیرہ ودل کے بڑے حصے کی مکمل نقشہ سازی ابھی باقی ہے اور مستقبل میں مزید نئی دریافتیں سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔

Leave a reply