کیرالہ کا کوڈنھی گاؤں سائنسی معمہ بن گیا

0
2
کیرالہ کا کوڈنھی گاؤں سائنسی معمہ بن گیا

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں کوڈنھی اپنی ایک غیر معمولی خصوصیت کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ گاؤں بظاہر ایک عام دیہی علاقہ دکھائی دیتا ہے، مگر یہاں جڑواں بچوں کی شرح غیر معمولی طور پر زیادہ پائی جاتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کوڈنھی میں تقریباً 2 ہزار خاندانوں کے درمیان سینکڑوں جڑواں جوڑے موجود ہیں، اور ہر سال مزید جڑواں بچوں کی پیدائش کا رجحان بھی دیکھا جاتا ہے۔ مقامی سطح پر یہ شرح عام آبادی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جس نے ماہرین کو حیران کر رکھا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رجحان کی کوئی حتمی سائنسی وجہ اب تک سامنے نہیں آ سکی۔ مختلف تحقیقات میں پانی، خوراک اور جینیاتی عوامل سمیت کئی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، تاہم کوئی واضح نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا۔
یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جو خواتین اس علاقے سے شادی کے بعد دوسرے علاقوں میں منتقل ہوتی ہیں، وہاں بھی جڑواں بچوں کی پیدائش کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جس سے اس رجحان کی پیچیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔
مقامی لوگ جڑواں بچوں کی پیدائش کو ایک قدرتی نعمت اور خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ اس رجحان کو سمجھنے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ایک مقامی تنظیم بھی کام کر رہی ہے، جو تحقیق کاروں کے ساتھ بھی تعاون کرتی ہے۔
کوڈنھی آج بھی سائنسدانوں کے لیے ایک پراسرار کیس اسٹڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں جڑواں بچوں کی یہ غیر معمولی شرح انسانی تحقیق کے لیے ایک دلچسپ سوال بنی ہوئی ہے۔

Leave a reply