
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ہائیکورٹس میں ججز کی تعیناتی کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے پہلی مرتبہ امیدواروں کے انٹرویوز کیے جائیں گے، جس کے لیے سات رکنی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ کمیٹی تجویز کردہ امیدواروں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور اس کی پاسداری ناگزیر ہے، جبکہ پنجاب بار کونسل وکلا کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وکلا اور ان کے اہل خانہ کے علاج سے متعلق پالیسی تیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت کینسر، گردے، جگر اور دل سمیت مختلف بیماریوں کا علاج سرکاری اور نجی اسپتالوں میں کرانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ پنجاب میں بار ایسوسی ایشنز کے لیے 135 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ بار ووکیشنل کورسز کے لیے مزید 2 کروڑ روپے دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح سول جج اور ایڈیشنل سیشن جج کی تقرری کے لیے امتحان لیا جاتا ہے، اسی طرح ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی میں بھی انٹرویو کا مرحلہ ہونا چاہیے تاکہ میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ حکومت پہلی بار ججز کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لینے کے لیے آئینی نظام متعارف کرا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ججز ایویلیوایشن کمیٹی ہر سال کے اختتام پر ججز کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔ ان کے مطابق اگر کسی جج کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہوئی تو کمیٹی ریفرنس تیار کرکے جوڈیشل کمیشن کو بھجوا سکے گی اور ضرورت پڑنے پر برطرفی کی سفارش بھی کر سکے گی۔
انہوں نے عدالتی نظام میں مقدمات کے بروقت فیصلوں کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو مؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔








