گیس یا دل کا درد؟ سینے کی تکلیف میں یہ علامات نظر انداز نہ کریں

0
5
گیس یا دل کا درد؟ سینے کی تکلیف میں یہ علامات نظر انداز نہ کریں

سینے میں جلن، درد یا بھاری پن کو اکثر لوگ گیس اور تیزابیت سے جوڑ دیتے ہیں، تاہم ہر قسم کی سینے کی تکلیف معدے کی خرابی کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات دل کے مسائل بھی بدہضمی یا سینے کی جلن جیسی علامات پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے ایسی کیفیت کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دل اور معدے کا حصہ جسم میں ایک دوسرے کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے بعض اوقات دونوں سے متعلق درد کی کیفیت ایک جیسی محسوس ہوسکتی ہے۔ دل کے مسئلے میں ضروری نہیں کہ ہمیشہ تیز یا چبھتا ہوا درد ہو؛ بعض افراد کو سینے میں دباؤ، جکڑن، بھاری پن یا جلنے جیسا احساس بھی ہوسکتا ہے۔

گیس اور تیزابیت میں کیا علامات ہوسکتی ہیں؟

گیس یا ایسڈ ریفلکس کی صورت میں تکلیف اکثر کھانے کے بعد بڑھ جاتی ہے اور لیٹنے سے سینے کی جلن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈکاریں، پیٹ میں پھولاؤ، منہ میں کھٹا ذائقہ اور معدے میں بھاری پن بھی ساتھ محسوس ہوسکتا ہے۔

تاہم ان علامات کی موجودگی سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ سینے کی تکلیف صرف گیس کی وجہ سے ہے۔

کن علامات میں دل کے مسئلے کا خدشہ ہوتا ہے؟

اگر سینے میں دباؤ یا درد چند منٹ سے زیادہ برقرار رہے، بار بار واپس آئے یا چلنے، سیڑھیاں چڑھنے اور جسمانی مشقت کے دوران شروع ہو تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

خاص طور پر اگر تکلیف سینے سے بازو، کندھے، کمر، گردن یا جبڑے تک پھیل رہی ہو تو فوری طبی امداد لینا ضروری ہے۔

دل سے متعلق ہنگامی صورتحال میں سینے کی تکلیف کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، ٹھنڈا پسینہ، متلی، چکر، غیر معمولی کمزوری یا بے چینی بھی ہوسکتی ہے۔

خواتین، بزرگ افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں دل کے مسائل کی علامات بعض اوقات روایتی سینے کے درد سے مختلف انداز میں ظاہر ہوسکتی ہیں۔

گیس کی دوا سے آرام ملنا حتمی ثبوت نہیں

یہ سمجھنا درست نہیں کہ اگر گیس یا تیزابیت کی دوا لینے کے بعد سینے کی تکلیف کم ہوگئی تو مسئلہ لازماً معدے کا ہی تھا۔ وقتی آرام کو حتمی تشخیص نہیں سمجھا جاسکتا، بالخصوص جب تکلیف دوبارہ ہو یا اس کے ساتھ سانس پھولنے، پسینہ آنے یا درد پھیلنے جیسی علامات بھی موجود ہوں۔

گھر پر ایسا کوئی قابلِ اعتماد ٹیسٹ موجود نہیں جس سے یقینی طور پر معلوم کیا جاسکے کہ سینے کا درد گیس کی وجہ سے ہے یا دل کے مسئلے کی علامت ہے۔ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر معائنہ، ای سی جی اور دیگر طبی ٹیسٹوں کے ذریعے وجہ کا تعین کرسکتے ہیں۔

کن افراد کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے؟

ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے، تمباکو نوشی یا پہلے سے دل کی بیماری رکھنے والے افراد میں سینے کی نئی یا غیر معمولی تکلیف کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ خاندان میں کم عمر میں دل کی بیماری کی تاریخ بھی خطرے کے عوامل میں شامل ہوسکتی ہے۔

اگر سینے میں اچانک شدید درد یا دباؤ شروع ہوجائے، تکلیف مسلسل برقرار رہے یا بازو، کمر، گردن یا جبڑے تک پھیل جائے، یا ساتھ سانس لینے میں دشواری، ٹھنڈا پسینہ، چکر یا شدید کمزوری محسوس ہو تو خود تشخیص یا گھر پر انتظار کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کریں۔

اہم بات یہ ہے کہ سینے کی نئی یا غیر معمولی تکلیف میں صرف اسے گیس سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے، کیونکہ دل کے بعض مسائل میں بروقت طبی علاج انتہائی اہم ہوتا ہے۔

Leave a reply