اوٹزی آئس مین کی ممی میں ہزاروں سال پرانے جراثیم کی سرگرمی نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا

اٹلی کے برفانی علاقے سے دریافت ہونے والی تقریباً 5,300 سال قدیم مشہور ممی “اوٹزی آئس مین” کے بارے میں نئی سائنسی تحقیق میں حیرت انگیز حقائق سامنے آئے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ممی کے جسم میں موجود بعض قدیم خردبینی جاندار آج بھی حیاتیاتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں اور اپنے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سائنسی جریدے مائیکروبایوم میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اوٹزی کے جسم میں موجود کچھ آنتوں کے بیکٹیریا اور سرد ماحول میں رہنے والی خمیر کی اقسام مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہوئیں بلکہ ان میں زندگی کی علامات اب بھی موجود ہیں۔
ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے خصوصی فریزر میں رکھا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود بعض جراثیم نے اپنی بقا برقرار رکھی ہوئی ہے۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے ممی کی جلد، اندرونی بافتوں اور پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کیا، جس سے ہزاروں سال پرانے انسانی مائیکروبایوم کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئیں۔
سائنسدانوں کے مطابق اوٹزی کی آنتوں میں پائے جانے والے فعال بیکٹیریا اس کی آخری خوراک کے شواہد سے مطابقت رکھتے ہیں۔ تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے زندگی کے آخری ایام میں چکنائی سے بھرپور جنگلی جانوروں کا گوشت، قدیم اناج اور ایک زہریلا فرن پودا کھایا تھا۔
تحقیق میں چند نایاب جراثیم بھی دریافت ہوئے جو آج کی شہری آبادیوں میں تقریباً ناپید ہو چکے ہیں، تاہم دنیا کے بعض دور افتادہ قبائلی علاقوں میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان جراثیم کا مطالعہ انسانی صحت اور جرثومی ارتقا کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ ممی میں موجود بعض خمیری جراثیم گزشتہ چند برسوں کے دوران تعداد میں بڑھ گئے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ جاندار ان جراثیم کش کیمیکلز سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت پیدا کر چکے ہیں جو ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس دریافت نے قدیم آثار کے تحفظ کے موجودہ طریقوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہزاروں سال پرانے جراثیم انتہائی سرد ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور جدید کیمیکلز کے ساتھ مطابقت پیدا کر سکتے ہیں تو یہ عجائب گھروں میں محفوظ دیگر ممیوں کے لیے بھی ایک چیلنج بن سکتے ہیں۔
اگرچہ اوٹزی آئس مین کی موت اور اس کے قاتل کی شناخت اب تک ایک معمہ ہے، لیکن اس کے جسم میں محفوظ مائیکروبایوم سائنسدانوں کو انسانی تاریخ، بیماریوں اور جراثیم کی ارتقائی تبدیلیوں کو سمجھنے کا ایک منفرد موقع فراہم کر رہا ہے۔









