ایران اسرائیل کشیدگی کے دوران نیتن یاہو کے مبینہ یو اے ای دورے پر تنازع

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے کی اطلاعات نے خطے میں نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کا غیرعلانیہ دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ہوئی۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ملاقات العین شہر میں ہوئی اور اس دوران دفاعی و سیکیورٹی تعاون سمیت مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کئی گھنٹوں تک جاری رہی جبکہ بعض رپورٹس میں اسرائیلی دفاعی نظام اور انٹیلی جنس تعاون پر بھی بات چیت کا ذکر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خفیہ دوروں سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات ابراہم معاہدے کے بعد کھلے عام قائم کیے گئے تھے، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی بات درست نہیں۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کے ساتھ مبینہ تعاون پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران مخالف سرگرمیوں میں اسرائیل کے ساتھ تعاون ناقابل قبول ہے اور ایسے اقدامات کے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا ہے۔
—









