
سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے دعوؤں کے بجائے حقیقی آمدنی اور منافع پر توجہ مرکوز کرلی
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی دوڑ میں شامل بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اب ایک نئے مالیاتی چیلنج کا سامنا ہے۔ اے آئی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود سرمایہ کار ان اخراجات کے مقابلے میں حاصل ہونے والے منافع پر سوالات اٹھانے لگے ہیں، جس کے باعث گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ سمیت دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص دباؤ میں آگئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق الفابیٹ کی مارکیٹ ویلیو میں ایک کاروباری سیشن کے دوران 500 ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں تقریباً 13 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب کمپنی نے اپنے مالیاتی نتائج جاری کیے۔ اعداد و شمار کے مطابق الفابیٹ کی سہ ماہی آمدنی گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافے کے ساتھ 127.6 ارب ڈالر رہی۔ گوگل کلاؤڈ کے شعبے نے نمایاں کارکردگی دکھائی اور اس کی آمدنی 103 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 31 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
تاہم آمدنی میں اضافے کے باوجود کمپنی کے منافع اور نقد رقم کے بہاؤ سے متعلق اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمپیوٹنگ سہولیات پر بڑھتے اخراجات کو اس دباؤ کی اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
گوگل کے اشتہاری کاروبار کو نیا چیلنج
گوگل کی جانب سے سرچ انجن میں اے آئی سے تیار کردہ جوابات اور خلاصوں کا استعمال بڑھایا جارہا ہے۔ اس تبدیلی سے صارفین کو معلومات زیادہ تیزی سے مل رہی ہیں، لیکن روایتی سرچ نتائج پر کلک کرنے کا رجحان متاثر ہونے سے اشتہارات کے کاروبار کے لیے نئے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
چونکہ سرچ اشتہارات الفابیٹ کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں، اس لیے سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اے آئی کی نئی سہولیات مستقبل میں کمپنی کے روایتی کاروباری ماڈل کو کس حد تک متاثر کریں گی۔
ایمیزون کے اخراجات بھی سرمایہ کاروں کی تشویش کا باعث
ایمیزون کو بھی مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹنگ کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کے باعث مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ کمپنی کی سہ ماہی آمدنی 11 فیصد اضافے کے ساتھ 201 ارب ڈالر رہی، تاہم اس کے فری کیش فلو میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایمیزون کے سربراہ اینڈی جیسی کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت اور کمپنی کے تیار کردہ کمپیوٹر چپس مستقبل میں بڑے کاروباری مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ شعبے طویل مدت میں انتہائی وسیع کاروبار کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مائیکروسافٹ کی اے آئی حکمت عملی
دوسری جانب مائیکروسافٹ نے بھی اے آئی کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ کمپنی کی سہ ماہی آمدنی میں 19 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کلاؤڈ کاروبار نے بھی مضبوط ترقی دکھائی۔
کمپنی کے سربراہ ستیہ نڈیلا کے مطابق اے آئی ٹول کوپائلٹ کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور صارفین اس کے ذریعے اپنے روزمرہ کام خودکار انداز میں مکمل کررہے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی ترجیحات تبدیل
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی نے ٹیکنالوجی کی صنعت میں نئے امکانات ضرور پیدا کیے ہیں، لیکن اب سرمایہ کار صرف مستقبل کے بڑے وعدوں پر مطمئن نہیں ہیں۔
وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اے آئی پر خرچ کیے جانے والے اربوں ڈالر کے بدلے کمپنیوں کو کتنی اضافی آمدنی حاصل ہورہی ہے اور یہ سرمایہ کاری کب مستقل منافع میں تبدیل ہوگی۔
موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے لیے اصل امتحان اب صرف جدید اے آئی ٹیکنالوجی تیار کرنا نہیں بلکہ اسے ایک پائیدار اور منافع بخش کاروبار میں تبدیل کرنا بھی ہے۔








