گوگل اینڈرائیڈ سسٹم کی مدد سے وینزویلا زلزلے سے پہلے وارننگ کیسے ممکن ہوئی؟

0
11
گوگل اینڈرائیڈ سسٹم کی مدد سے وینزویلا زلزلے سے پہلے وارننگ کیسے ممکن ہوئی؟

وینزویلا میں بدھ کے روز 7.1 اور 7.5 شدت کے طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں اور مختلف علاقوں میں نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی زور پکڑ گئی کہ کچھ صارفین کو گوگل کی جانب سے زلزلے سے چند لمحے پہلے ہی الرٹس کیسے موصول ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق کئی اینڈرائیڈ صارفین کو زلزلے سے قبل اپنے موبائل فون پر وارننگ موصول ہوئی، جس میں ممکنہ جھٹکوں کی شدت اور مرکز سے فاصلے کے بارے میں ابتدائی اندازہ دیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام اسمارٹ فونز میں موجود “ایکسیلرومیٹر” سینسرز پر کام کرتا ہے، جو عام طور پر فون کی حرکت اور اسکرین کے گھومنے کو محسوس کرتا ہے، لیکن زلزلے کی ابتدائی لرزش بھی ریکارڈ کر سکتا ہے۔
جب کسی علاقے میں متعدد اینڈرائیڈ فونز ایک ہی وقت میں غیر معمولی لرزش محسوس کرتے ہیں تو یہ ڈیٹا گوگل کے سرورز کو بھیجا جاتا ہے۔ مختلف فونز سے آنے والی معلومات کا تجزیہ کر کے سسٹم اندازہ لگاتا ہے کہ زلزلہ شروع ہو چکا ہے۔
چونکہ زلزلے کی ابتدائی لہریں (P-waves) کمزور ہوتی ہیں اور بعد میں آنے والی زیادہ تباہ کن لہروں (S-waves) سے پہلے پہنچتی ہیں، اس لیے یہ نظام ان ابتدائی اشاروں کو استعمال کر کے چند سیکنڈ پہلے وارننگ جاری کر دیتا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اربوں اینڈرائیڈ فونز اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جس کی وجہ سے یہ ایک بڑے پیمانے پر زلزلہ مانیٹرنگ سسٹم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ الرٹس دو اقسام کے ہوتے ہیں: ایک عام اطلاع اور دوسرا شدید زلزلے کی صورت میں فوری حفاظتی اقدامات کی ہدایت۔ ان کے ذریعے صارفین کو زلزلے سے پہلے قیمتی چند لمحے مل سکتے ہیں تاکہ وہ خود کو محفوظ مقام پر منتقل کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام زلزلے کی پیش گوئی نہیں کرتا، بلکہ ابتدائی جھٹکوں کا فوری پتا لگا کر وارننگ دیتا ہے، جو ہنگامی صورتحال میں جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a reply