امریکی فوج پر زخمی اہلکاروں کے زخم کم ظاہر کرنے کے الزامات

ایران کے ساتھ فوجی جھڑپوں میں زخمی ہونے والے بعض امریکی فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی چوٹوں کی شدت کو سرکاری ریکارڈ میں کم درج کیا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ کئی اہلکار شدید جسمانی اور ذہنی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن دستاویزات میں انہیں معمولی زخمی قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع نے پہلے کہا تھا کہ زخمی ہونے والے فوجیوں کی بڑی تعداد معمولی چوٹوں کے بعد اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکی ہے۔ تاہم بعض فوجیوں کا مؤقف ہے کہ ان کے زخم طویل المدت اثرات کے حامل ہیں اور وہ ابھی تک مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکے۔
ان میں چیف وارنٹ آفیسر روڈنی بیرمین بھی شامل ہیں، جو ایک ڈرون حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں دماغی چوٹ، بینائی اور سماعت کے مسائل سمیت متعدد طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہے، اس کے باوجود سرکاری ریکارڈ میں ان کی حالت کو کم سنگین ظاہر کیا گیا۔
اسی طرح سارجنٹ کوری ہکس اور ان کے اہلِ خانہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کی چوٹوں کی اصل نوعیت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق وہ اب بھی علاج کے مراحل سے گزر رہے ہیں اور صحت یابی میں وقت لگ رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ زخمیوں کی درجہ بندی مخصوص فوجی اور قانونی معیار کے مطابق کی جاتی ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کسی اہلکار کو “شدید زخمی” قرار دینے کے لیے مخصوص طبی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہوتا ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ مستقبل میں زخمی اہلکاروں کی حالت کے بارے میں درست معلومات فراہم کی جا سکیں اور ممکنہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔









