گوادر اور سی پیک منصوبے سکیورٹی خدشات کی زد میں

0
7
گوادر اور سی پیک منصوبے سکیورٹی خدشات کی زد میں

ترک میڈیا پلیٹ فارم ٹی آر ٹی ورلڈ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے کی کارروائیاں نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی تجارت اور عالمی رابطوں کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی اہم شاہراہیں، ریلوے لائنیں اور تجارتی راستے متعدد حملوں کے باعث غیر محفوظ صورتحال کا شکار ہیں، جس سے نقل و حمل اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرینوں اور مال بردار گاڑیوں پر ہونے والے حملے مقامی آبادی کے معاشی مفادات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں، کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں گوادر بندرگاہ اور بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ خطہ بین الاقوامی تجارت کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے، اس لیے یہاں کا عدم استحکام علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات ڈال سکتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ بعض ممالک پہلے ہی بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، جبکہ اس کی کارروائیوں میں ایسے طریقہ کار دیکھے گئے ہیں جو دیگر شدت پسند گروہوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سڑکوں، ریلوے اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچا ہے اور سکیورٹی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریلوے نیٹ ورک، بشمول جعفر ایکسپریس، پر حملوں کے بعد کئی بار سروس معطل کرنا پڑی، جس سے عوامی اور تجارتی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔
گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا بڑا حصہ بلوچستان میں رپورٹ ہوا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ (سی پیک) سمیت توانائی اوردیگر ترقیاتی منصوبے بھی ان حملوں کی زد میں آ رہے ہیں، جس سے خطے میں اقتصادی انضمام کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
آخر میں رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک اور عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، کیونکہ عدم استحکام کے اثرات عالمی سپلائی چین تک پہنچ سکتے ہیں۔

Leave a reply