
کینسر کے علاج کے بعد جب بال دوبارہ اگنا شروع ہوتے ہیں تو یہ صحت یابی کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر ہیئر ڈائی استعمال کرنے میں احتیاط ضروری ہے، کیونکہ نئے اگنے والے بال اور سر کی جلد عموماً حساس ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کے بعد مستقل (پرمننٹ) ہیئر ڈائی کا فوری استعمال جلد میں جلن، الرجی اور بالوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر عموماً مشورہ دیتے ہیں کہ علاج مکمل ہونے کے کم از کم چھ ماہ بعد ہی مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے پر غور کیا جائے، اور اس سے پہلے معالج یا آنکولوجسٹ سے مشورہ ضرور کیا جائے۔
مختلف سائنسی تحقیقات کے مطابق ذاتی استعمال کے لیے ہیئر ڈائی اور کینسر کے درمیان مضبوط اور واضح تعلق ثابت نہیں ہوا، تاہم بعض مطالعات میں طویل عرصے تک مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے والی خواتین میں چند مخصوص اقسام کے کینسر کے خطرے میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی تحقیقی ادارے کے مطابق موجود شواہد کی بنیاد پر عام صارفین کے لیے ہیئر ڈائی کو کینسر کا یقینی سبب قرار نہیں دیا جا سکتا، البتہ ایسے افراد جو پیشہ ورانہ طور پر مسلسل ان کیمیکلز کے رابطے میں رہتے ہیں، ان میں خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہیئر ڈائی خریدتے وقت اس کے اجزاء ضرور دیکھیں اور پیرا فینائلین ڈائی امین (PPD)، امونیا، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ، پیرا بینز اور فیتھالیٹس جیسے کیمیکلز سے حتیٰ الامکان گریز کریں، خصوصاً اگر بال نئے اگے ہوں یا سر کی جلد حساس ہو۔
اگر بالوں کو رنگنا ضروری ہو تو خالص مہندی، قدرتی جڑی بوٹیوں پر مشتمل رنگ، یا امونیا سے پاک سیمی پرمننٹ رنگ نسبتاً محفوظ متبادل سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح عارضی روٹ پاؤڈر یا کلر مسکارا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو شیمپو سے آسانی سے صاف ہو جاتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ہیئر ڈائی کے استعمال سے کم از کم 48 گھنٹے پہلے پیچ ٹیسٹ ضرور کیا جائے تاکہ ممکنہ الرجی یا جلن کا بروقت اندازہ ہو سکے۔ جہاں ممکن ہو، رنگ کو براہ راست سر کی جلد پر لگانے کے بجائے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جن میں جلد سے کم سے کم رابطہ ہو۔
ماہرین کے مطابق کینسر کے علاج کے بعد بالوں کی دیکھ بھال دوبارہ شروع کرنا خوش آئند مرحلہ ہے، لیکن محفوظ طریقہ یہی ہے کہ جلد بازی سے گریز کیا جائے، مناسب متبادل اختیار کیے جائیں اور ہر اہم فیصلہ اپنے معالج کے مشورے سے کیا جائے۔









