امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ خفیہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کا دعویٰ

امریکی اور عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ خفیہ فریم ورک معاہدے سے متعلق تفصیلات سامنے آئی ہیں، تاہم اس دستاویز کی سرکاری تصدیق یا مکمل متن ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔
ان رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسے جامع منصوبے پر بات چیت ہوئی ہے جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، سمندری راستوں کی بحالی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور مستقبل میں مستقل امن معاہدے کی طرف پیش رفت شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مجوزہ ڈھانچے میں سب سے اہم پہلو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات پر مزید مذاکرات آئندہ 60 دنوں کے اندر جاری رہیں گے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت خطے میں تمام محاذوں پر کشیدگی کم کرنے اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف براہِ راست یا بالواسطہ کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کا نام واضح طور پر شامل نہیں کیا گیا، لیکن خطے کی مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسے بھی اس فریم ورک سے منسلک سمجھا جا رہا ہے۔
مزید یہ کہ سمندری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز کی بحالی اور تجارتی سرگرمیوں کو معمول پر لانے کے اقدامات پر بھی بات کی گئی ہے، جنہیں مرحلہ وار نافذ کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں خطے سے اپنی فوجی موجودگی میں کمی کی جا سکتی ہے، جبکہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں بتدریج نرمی کا عمل بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔
معاہدے کے ابتدائی خاکے میں ایران کی معاشی بحالی کے لیے بڑے مالیاتی پیکیج کی بات بھی سامنے آئی ہے، جس کے لیے مختلف ذرائع سے خطیر فنڈز اکٹھے کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ایک نگرانی کا نظام یا کمیٹی بنانے کی تجویز بھی شامل ہے جو معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی۔ حتمی معاہدے کی صورت میں اس کی توثیق بین الاقوامی اداروں، بشمول اقوام متحدہ، سے کرانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔









