
ملک بھر کے بجلی صارفین کو ایک بار پھر اضافی بلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی گئی ہے۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مئی کے دوران بجلی کی پیداواری لاگت مقررہ تخمینے سے زیادہ رہی، جس کے باعث تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی بوجھ سامنے آیا ہے۔ اگر یہ اضافہ منظور ہو جاتا ہے تو یہ رقم صارفین سے وصول کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق مئی میں ملک بھر میں 12 ارب 63 کروڑ یونٹس سے زائد بجلی پیدا کی گئی، جبکہ فی یونٹ اوسط لاگت 9 روپے 25 پیسے رہی، جو پہلے سے طے شدہ اندازے 8 روپے 43 پیسے سے زیادہ ہے۔
بجلی کی پیداوار کے ذرائع میں پانی کا حصہ سب سے زیادہ یعنی تقریباً ایک تہائی رہا، جبکہ کوئلہ، گیس، ایل این جی، فرنس آئل اور جوہری ایندھن سے بھی مختلف تناسب میں بجلی حاصل کی گئی۔
اب اس درخواست پر نیپرا 30 جون کو سماعت کرے گا، جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جائے یا نہیں۔









