پنجاب میں ٹریفک قوانین نرم، جرمانے کم اور قید کی سزائیں ختم

0
3
پنجاب میں ٹریفک قوانین نرم، جرمانے کم اور قید کی سزائیں ختم

پنجاب میں موٹر وہیکل قوانین میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ٹریفک خلاف ورزیوں پر عائد جرمانوں اور سزاؤں میں نمایاں نرمی کر دی گئی ہے۔ گورنر پنجاب نے صوبائی موٹر وہیکل (دوسری ترمیم) بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد سابقہ سخت سزائیں ختم یا کم کر دی گئی ہیں۔
گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت عام شہری کی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کررہی ہے، کیونکہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں بھاری جرمانے عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہے تھے۔ ان کے مطابق خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ ڈرائیوروں کو ان قوانین سے زیادہ مشکلات کا سامنا تھا۔
نئے قانون کے تحت مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں واضح کمی کی گئی ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق خلاف ورزی پر پہلے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا دی جاتی تھی، تاہم اب اسے کم کر کے 5 سے 10 ہزار روپے کر دیا گیا ہے جبکہ قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔
ون وے کی خلاف ورزی پر بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے، جہاں پہلے بھاری جرمانے اور قید دونوں شامل تھے، اب صرف 5 ہزار روپے جرمانہ لاگو ہوگا۔ اسی طرح عمر کی حد کی خلاف ورزی پر قید کی سزا ختم کرتے ہوئے صرف 10 ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے۔
گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ سے متعلق خلاف ورزی پر بھی سخت سزاؤں کو ختم کر دیا گیا ہے اور اب صرف 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ زائد مسافروں کو لے جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی جرمانہ کم کر کے 5 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق سابقہ سخت آرڈیننس کو ختم کر کے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد قوانین میں نرمی کے ساتھ عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ یہ اقدام عوامی مفاد کے تحت کیا گیا ہے تاکہ معاشی دباؤ کا شکار شہریوں کو ریلیف دیا جا سکے اور ٹریفک قوانین کو قابلِ عمل بنایا جا سکے۔

Leave a reply