
اسلام آباد: کھانے کے بعد کچھ دیر ہلکی چہل قدمی کرنا روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ایک آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد مختصر واک ہاضمے کے عمل اور خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
مصروف معمولات کے باعث بہت سے افراد باقاعدہ ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ ایسے میں دوپہر یا رات کے کھانے کے بعد 10 سے 15 منٹ کی ہلکی واک ایک سادہ اور قابلِ عمل معمول بن سکتی ہے۔ اس کے لیے کسی خاص ورزش گاہ یا سامان کی بھی ضرورت نہیں۔
دوپہر کے کھانے کے بعد واک
لنچ کے بعد چند منٹ آرام سے چلنے سے جسم کو حرکت ملتی ہے۔ یہ واک گھر، دفتر یا کسی محفوظ قریبی جگہ پر کی جا سکتی ہے۔ اس دوران مقصد تیز ورزش کے بجائے جسم کو فعال رکھنا ہونا چاہیے۔
رات کے کھانے کے بعد بھی چلنا مفید
رات کے کھانے کے بعد بھی مختصر اور آرام دہ چہل قدمی کی جا سکتی ہے۔ تاہم کھانے کے فوراً بعد تیز دوڑ یا سخت ورزش کرنے کے بجائے معمول کی رفتار سے چلنا بہتر رہتا ہے، خصوصاً جب کھانا معمول سے زیادہ مقدار میں کھایا گیا ہو۔
خون میں شوگر پر ممکنہ اثر
کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کی سطح بڑھتی ہے۔ ہلکی جسمانی سرگرمی کے دوران پٹھے گلوکوز استعمال کرتے ہیں، جس سے بعض افراد میں کھانے کے بعد شوگر کے اضافے کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کچھ مطالعات میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار افراد سمیت مختلف لوگوں میں کھانے کے بعد مختصر واک کے مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں۔ تاہم ذیابیطس کے مریض ورزش، غذا یا ادویات کے معمول میں تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔
واک کی رفتار کتنی ہو؟
کھانے کے بعد چہل قدمی کرتے وقت بہت تیز چلنے یا خود کو تھکانے کی ضرورت نہیں۔ ایسی رفتار مناسب ہے جس میں آپ آرام سے چل سکیں اور سانس معمول سے بہت زیادہ نہ پھولے۔
اگر واک کے دوران سینے میں درد، شدید سانس پھولنے، چکر یا غیر معمولی کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً رک جانا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔
مختصر یہ کہ روزانہ دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد چند منٹ کی ہلکی واک، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، جسمانی سرگرمی بڑھانے کی ایک آسان عادت بن سکتی ہے۔ تاہم واک کا دورانیہ اور رفتار ہر فرد کی صحت اور جسمانی صلاحیت کے مطابق ہونی چاہیے۔








