
کم عمری میں بالوں کا سفید ہونا اب صرف بڑھتی عمر سے منسلک مسئلہ نہیں رہا۔ طبی ماہرین کے مطابق بعض اوقات یہ جسم میں غذائی کمی، ہارمونز کے عدم توازن یا دیگر طبی مسائل کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔ اگر بال اچانک یا معمول سے زیادہ تیزی سے سفید ہونے لگیں تو اس کی وجہ جاننے کے لیے طبی معائنہ ضروری ہو سکتا ہے۔
بالوں کا قدرتی رنگ میلانن نامی رنگ دار مادے کی بدولت برقرار رہتا ہے۔ جب جسم میں اس کی پیداوار متاثر ہوتی ہے تو بال اپنی قدرتی رنگت کھونے لگتے ہیں۔ اس عمل پر جینیاتی عوامل کیساتھ ساتھ صحت اور طرزِزندگی بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق درج ذیل عوامل کم عمری میں بال سفید ہونے سے تعلق رکھ سکتے ہیں:
وٹامن بی 12 کی کمی: اس وٹامن کی کمی بالوں کی صحت متاثر کر سکتی ہے اور اس کے ساتھ تھکاوٹ، کمزوری اور چکر آنے جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
تھائیرائیڈ کے مسائل: تھائیرائیڈ ہارمونز میں کمی یا زیادتی بالوں کی نشوونما اور رنگت دونوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
آئرن کی کمی (خون کی کمی): جسم میں آئرن کی کمی کی صورت میں بالوں کی جڑوں کو مناسب آکسیجن اور غذائیت نہیں ملتی، جس سے ان کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
وٹیلیگو (برص): یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں جلد کے مخصوص حصوں کی رنگت ختم ہو جاتی ہے، اور اگر کھوپڑی متاثر ہو تو اس حصے کے بال بھی سفید ہو سکتے ہیں۔
مسلسل ذہنی دباؤ: طویل عرصے تک رہنے والا ذہنی تناؤ بالوں کے رنگ پیدا کرنے والے خلیات کو متاثر کر سکتا ہے، اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے۔
اسکے علاوہ غیرمتوازن غذا، نیند کی کمی، آلودگی، تمباکونوشی اور بعض غذائی اجزا کی کمی بھی بالوں کی مجموعی صحت پرانتہائی منفی اثرڈال سکتی ہے۔
اگر کم عمری میں بال تیزی سے سفید ہونے لگیں یا اس کے ساتھ شدید تھکاوٹ، وزن میں غیر معمولی تبدیلی، یا دیگر طبی علامات بھی موجود ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے تاکہ اصل وجہ کی تشخیص اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔









