کاکروچ جنتا پارٹی تنازع کا شکار، جشن کی ویڈیوز پر اٹھے سوالات

نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے پر احتجاج کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو اپنی کامیابی قرار دینے والی کاکروچ جنتا پارٹی اب اپنے ہی کارکنوں اور رضاکاروں سے متعلق ایک نئے تنازع میں گھِر گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر پارٹی سے وابستہ افراد کی جشن منانے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد بعض حلقوں نے الزام لگایا کہ احتجاج میں شامل کارکنوں کو مناسب توجہ نہیں دی گئی۔
سیاسی مبصر اور یوٹیوبر میگھ ناد ایس نے ایک وائرل ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جہاں پارٹی رہنما کامیابی کا جشن منا رہے تھے، وہیں جنتر منتر پر موجود کئی طلبہ اور رضاکار رہائش، کھانے اور واپسی کے انتظامات کے مسائل سے دوچار تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ طویل احتجاج میں شامل متعدد افراد قیادت کے جانے کے بعد مشکلات میں آ گئے، جبکہ کچھ لوگوں نے اپنی مدد سے مظاہرین کے لیے ٹکٹ، رہائش اور دیگر ضروری سہولیات کا انتظام کیا۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے کے بعد بحث شروع ہو گئی۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک طویل عرصے تک تحریک کا حصہ رہنے والے رضاکاروں کے ساتھ اختتام پر بہتر رابطہ اور تعاون کیوں نہیں کیا گیا۔
احتجاج کے دوران کھانے کی سہولت فراہم کرنے والے ایک رضاکار جُنید کے بیانات بھی سامنے آئے، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک ختم ہونے کے بعد پارٹی قیادت نے ان سے مناسب رابطہ نہیں کیا۔ ان بیانات کے بعد پارٹی کے طریقۂ کار پر مزید تنقید ہوئی۔
تاہم کاکروچ جنتا پارٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ویڈیوز کو مکمل صورتحال کے بغیر پیش کیا جا رہا ہے۔
پارٹی ترجمان سورَو داس کے مطابق یہ کوئی بڑی یا شاہانہ تقریب نہیں تھی بلکہ احتجاج میں شامل رضاکاروں کے اعزاز میں ایک معمولی ملاقات تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب میں ان افراد کا شکریہ ادا کیا گیا جو کئی ہفتوں تک احتجاج کا حصہ رہے اور مختلف شہروں سے آ کر تحریک میں شامل ہوئے تھے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ صرف رقص یا جشن کی چند ویڈیوز سامنے آنے سے مکمل تصویر واضح نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق پارٹی رہنما بیک وقت دیگر انتظامی امور بھی دیکھ رہے تھے اور رضاکاروں سے ملاقاتیں بھی کی گئیں۔
اس معاملے پر سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کامیابی کے بعد عاجزی، احترام اور ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کامیابی کا جشن بھی وقار اور تحمل کے ساتھ منایا جانا چاہیے۔
سونم وانگچک اس احتجاجی مہم کی اہم شخصیات میں شامل رہے تھے اور انہوں نے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ تحریک طلبہ اور نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے سے متعلق تھی، اس لیے جشن کی تصاویر نے کئی متاثرہ افراد کو مایوس کیا۔ بعض لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب کچھ مظاہرین کو قانونی مسائل کا سامنا ہے تو ایسے وقت میں جشن کی تشہیر مناسب تھی یا نہیں۔
دوسری جانب پارٹی کا مؤقف ہے کہ نوجوان نسل احتجاج کے ساتھ ساتھ اپنی کامیابیوں کا اظہار بھی نئے انداز میں کرتی ہے اور اسے روایتی سیاسی معیار سے نہیں پرکھنا چاہیے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی نیٹ-یو جی پیپر لیک کے خلاف شروع کی گئی مہم سوشل میڈیا سے شروع ہوئی تھی، جو بعد میں جنتر منتر کے احتجاج اور ملک کے مختلف حصوں میں مظاہروں تک پہنچی۔ تاہم وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد اب تحریک کے اختتام، قیادت کے کردار اور رضاکاروں کے ساتھ رویے پر نئی بحث جاری ہے۔








