
اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کے ڈیلرز کے مارجن میں فی لیٹر 1 روپے 34 پیسے اضافے کی منظوری دے دی، جس کے بعد ڈیلرز کا مجموعی مارجن 10 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ فیصلے کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے ہفتے کو ہونے والی ہڑتال مؤخر کر دی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ڈیلرز مارجن پر نظرثانی سے متعلق سمری پیش کی گئی۔ اجلاس میں موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ڈیلرز مارجن میں اضافے کی منظوری دی گئی۔
پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے مارجن میں 8 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم حکومت نے فوری طور پر فی لیٹر 1.34 روپے اضافے کی منظوری دی ہے۔ مزید اضافے کے مطالبے کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جو 30 روز میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے مطابق ڈیلرز مارجن میں اضافے کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کوٹہ سسٹم سے متعلق معاملات بھی زیر غور ہیں۔
ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور کاروباری اخراجات میں اضافے کے باعث مارجن میں مزید بہتری ضروری ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے پیٹرولیم پمپس کو مرحلہ وار ڈیجیٹل کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کے موجودہ طریقہ کار میں بھی ممکنہ ردوبدل زیر غور ہے۔ اس حوالے سے وزارتِ پیٹرولیم کی تجاویز پر متعلقہ فورمز حتمی فیصلہ کریں گے۔








