کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس پھیلنے پر عالمی ہنگامی صورتحال نافذ

World Health Organization نے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد صورتحال کو بین الاقوامی سطح پر صحتِ عامہ کی ہنگامی حالت قرار دے دیا ہے۔ ادارے کے مطابق اب تک اس وبا سے کم از کم 80 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں جبکہ سینکڑوں مشتبہ کیسز زیرِ نگرانی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کیمطابق یہ وبا بنڈی بوجیو وائرس سے پھیل رہی ہے، جسکے خلاف فیالحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وائرس سرحدی ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے، خاص طور پر وہ علاقے جو جمہوریہ کانگو سے ملحق ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صوبہ ایتوری کے مختلف ہیلتھ زونز میں متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ مشرقی کانگو کے شہر گوما میں بھی ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔
امریکی حکام نے بھی وبا کے خطرے کے پیشِ نظر ایمرجنسی اقدامات شروع کردیے ہیں۔ Centers for Disease Control and Prevention نے اپنا ایمرجنسی رسپانس سینٹر فعال کردیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں اضافی عملہ بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ایتوری صوبے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں ہنگامی خدمات کی فراہمی محدود ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے زیادہ سنگین ہوسکتی ہے کیونکہ مشتبہ مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یاد رہے کہ ایبولا وائرس پہلی بار 1976 میں جمہوریہ کانگو میں دریافت ہوا تھا۔
ادارے نے مختلف ممالک کو سرحدی نگرانی سخت کرنے، اسکریننگ بڑھانے اور ہنگامی طبی نظام فعال رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔









