
ویب ڈیسک: ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، تاہم چند آسان روزمرہ عادات اپنا کر دماغ کو طویل عرصے تک فعال اور صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اچھی نیند، باقاعدہ ورزش، سماجی میل جول، نئی چیزیں سیکھنے کی عادت اور متوازن غذا دماغی صحت کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق روزانہ 6 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند دماغ کو یادداشت بہتر بنانے، نئی معلومات کو محفوظ کرنے اور ذہنی لچک برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنانا بھی ضروری ہے کیونکہ ورزش دماغ تک خون کی روانی بہتر کرتی ہے اور الزائمر و دیگر دماغی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
تنہائی کو بھی دماغی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی دباؤ اور بے چینی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اسی طرح نئی چیزیں سیکھنا، پزل حل کرنا یا نئے تجربات حاصل کرنا دماغ کو متحرک رکھتا ہے اور بڑھتی عمر میں ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فاسٹ فوڈ اور الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی تنزلی کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے، جبکہ پھلوں، سبزیوں، اناج اور صحت مند غذاؤں پر مشتمل متوازن خوراک دماغ کے لیے فائدہ مند ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں اپنا کر بڑھتی عمر میں بھی دماغ کو مضبوط اور فعال رکھا جا سکتا ہے۔








