پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر حکومتی رہنماؤں کی تنقید، عطا تارڑ نے 27 ستمبر کے احتجاج کو ناکام قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج کے لیے بڑے اعلانات کیے گئے، تاہم عملی طور پر کوئی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
پریس کانفرنس میں عطا تارڑ نے کہا کہ 27 ستمبر کی تاریخ خود پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی تھی، لیکن ان کے مطابق جماعت اس احتجاج کے لیے مؤثر تیاری نہیں کر سکی۔ انہوں نے پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی کی سیاسی اور انتظامی حیثیت پر بھی تنقید کی۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے بہت زیادہ بیانات سامنے آئے، مگر عملی صورتحال ان دعوؤں کے برعکس رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اگر 5 اکتوبر کو احتجاج کی نئی تاریخ دیتی ہے یا 2028 میں اسی تاریخ کا اعلان کرتی ہے، حکومت کے لیے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
عطا تارڑ نے پی ٹی آئی پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے متعلق بھی الزام عائد کیا، تاہم یہ مؤقف حکومتی سیاسی بیان کے طور پر سامنے آیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے رہنما اختیار ولی نے بھی پی ٹی آئی کے احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کے لیے مناسب تیاری نہیں کی گئی تھی۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کے بیانات محض سیاسی اور میڈیا سرگرمی تک محدود رہے۔
اختیار ولی نے خیبر پختونخوا حکومت کو وفاق کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کا ذکر کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کوہاٹ کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے عوام کو دہشت گردی کے خلاف متحد کیا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن جلال خان نے عطا تارڑ کے صوبے میں آنے پر پی ٹی آئی کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کا احتجاج مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے حکومتی رہنماؤں کے ان دعوؤں پر مؤقف اس خبر میں شامل نہیں کیا گیا۔









