افغان دہشت گردی کا خاتمہ علاقائی امن اور ترقی کے لیے ضروری ہے، اسحاق ڈار

0
9
افغان دہشت گردی کا خاتمہ علاقائی امن اور ترقی کے لیے ضروری ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے کے خاتمے کے بغیر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کا حصول مشکل ہے۔

اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے کونسل کے 27ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ علاقائی تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے محض مذاکرات کے بجائے عملی اقدامات کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ای سی او کا مقصد رکن ممالک کے درمیان روابط کو مضبوط، خطے کو زیادہ مربوط اور معیشتوں کو مسابقتی بنانا ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ ای سی او خطے میں تقریباً 50 کروڑ افراد آباد ہیں، جبکہ تنظیم کے رکن ممالک کی باہمی تجارت مجموعی علاقائی تجارت کا تقریباً 8 فیصد ہے۔ انہوں نے امن، علاقائی یکجہتی، لچک اور مشترکہ اقتصادی ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے کے ممالک کے ساتھ پُرامن حل کے لیے سفارتی رابطوں اور کوششوں کو جاری رکھا ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے حل کے عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے علاقائی اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقتصادی روابط، باہمی تجارت اور علاقائی انضمام کے فروغ کو ترجیح دے گا۔ ان کے مطابق وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے جوڑنے والے اہم تجارتی اور راہداری منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنا ضروری ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ خطے کی آبی سلامتی، زراعت اور روزگار کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پائیدار توانائی اور موسمیاتی مزاحمت رکھنے والے بنیادی ڈھانچے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

افغانستان سے متعلق گفتگو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے طالبان حکومت کے ساتھ تعمیری روابط برقرار رکھنے کے ساتھ افغانستان کے لیے دوطرفہ ٹرانزٹ تجارت میں بھی سہولتیں فراہم کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر پیش رفت بھی پاکستان کی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق طالبان حکومت سے پاکستان کی بنیادی توقع یہ ہے کہ وہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کی سرگرمیاں خطے میں امن، استحکام اور ترقی کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

Leave a reply