
لاہور: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں پیٹرول مزید مہنگا ہو سکتا ہے، جبکہ شدید قلت کی صورت میں ایک ہزار روپے فی لیٹر کی قیمت بھی ناکافی ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی برقرار رکھنا ہے۔ عالمی مارکیٹ اور خطے میں تیل کی ترسیل سے متعلق صورتحال پر حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت مختلف ذرائع سے تیل کی درآمد اور فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی قلت پیدا نہ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سپلائی کا بحران شدت اختیار کرتا ہے تو صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ تاہم حکومت محدود وسائل کے باوجود عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزارت پیٹرولیم کے مطابق ستمبر کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات کیے جا چکے ہیں جبکہ اکتوبر کے لیے بھی سپلائی کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ نومبر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید متبادل ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ حالیہ بحران کے دوران ریفائنری کمپنیوں، پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO)، اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ملک میں ایندھن کی سپلائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 90 فیصد اضافہ ہوا، تاہم پاکستان میں اس اضافے کا تقریباً نصف حصہ صارفین تک منتقل کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے سابق حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ اس کے دور میں ملکی معیشت کو دیوالیہ پن کے قریب پہنچا دیا گیا۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی پیٹرول ریلیف اسکیم کے لیے اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔









