پاکستان کا برطانوی نمائندہ خصوصی کا پاک افغان سرحدی بیان مسترد

0
5
پاکستان کا برطانوی نمائندہ خصوصی کا پاک افغان سرحدی بیان مسترد

پاکستان نے پاک افغان سرحدی صورتحال سے متعلق برطانوی نمائندہ خصوصی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے یکطرفہ قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس نوعیت کے بیانات زمینی حقائق اور خطے کی پیچیدہ صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتے، لہٰذا ایسے مؤقف اپنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو مسلسل سرحد پار سے دہشتگردی اور دراندازی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق افغان سرزمین سے دہشتگرد عناصر کی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ بعض حملوں میں مبینہ طور پر بھارتی حمایت یافتہ عناصر بھی ملوث پائے گئے ہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان واقعات کے نتیجے میں 52 شہری جاں بحق اور 84 زخمی ہوئے۔ مزید کہا گیا کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے طور پر عارضی وقفے کے باوجود سرحد پار سے حملوں اور دراندازی کی کوششیں نہیں رک سکیں۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہدفی کارروائیاں کیں جن میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔
افغان حکام کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو پاکستان نے بے بنیاد اور شواہد سے عاری قرار دیا ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خطے کی صورتحال کا جائزہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور حقائق کی بنیاد پر غیر جانبداری سے لے۔

Leave a reply