
اسلام آباد: پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کے تجارتی قرضے کی ری فنانسنگ کے عمل کو تیز کرنے کے لیے باضابطہ درخواست کر دی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور چین کے متعلقہ حکام کے درمیان اس معاملے پر بات چیت جاری ہے، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ تمام ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد یہ رقم رواں ماہ کے اختتام تک حاصل ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چین سے ملنے والی یہ رقم ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں مددگار ثابت ہوگی، کیونکہ حالیہ بیرونی ادائیگیوں کے باعث ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے جولائی میں تقریباً 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں کیں، جن میں چین کا 1.3 ارب ڈالر کا تجارتی قرض بھی شامل تھا۔
حکام کو امید ہے کہ اسٹیٹ بینک رواں مالی سال کے دوران انٹر بینک مارکیٹ سے 7 ارب ڈالر سے زائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا، جس کا مقصد بیرونی ادائیگیوں کو بہتر انداز میں منظم کرنا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 24 جولائی 2026 تک پاکستان کے مجموعی مائع غیر ملکی ذخائر 22.442 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں مرکزی بینک کے ذخائر 17.030 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.412 ارب ڈالر رہے۔
گزشتہ ہفتے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے باعث مرکزی بینک کے ذخائر میں 229 ملین ڈالر کی کمی بھی دیکھی گئی۔
ذرائع کے مطابق چین کی جانب سے متوقع 1.3 ارب ڈالر کی ری فنانسنگ سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر موجود دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔








