
کراچی: فارما ایشیا 2026 میں صحت اور ادویات کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے پاکستان میں اوسط متوقع عمر میں اضافے، جدید ادویات تک رسائی اور فارماسیوٹیکل صنعت کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کو اہم قرار دیا ہے۔
کانفرنس کے دوران نیوٹرو فارما کے چیف ایگزیکٹیو حمید رضا نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستانیوں کی اوسط متوقع عمر میں تقریباً 10 سال اضافہ ہوا، جس میں ادویات کی بہتر دستیابی اور استعمال نے کردار ادا کیا۔
عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں اوسط متوقع عمر 1990 میں تقریباً 59 سال اور 7 ماہ تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 67 سال اور 8 ماہ ہوگئی۔ تاہم، یہ اعداد و شمار تقریباً 8 سال کے اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر فیصل کھوکھر نے بتایا کہ ایک اور پاکستانی دوا ساز کمپنی کو آئندہ سال سخت بین الاقوامی ریگولیٹری معیار پر پورا اترنے کی منظوری ملنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق، اس پیش رفت سے پاکستانی ادویات کی عالمی منڈیوں تک رسائی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادویات سازی کے شعبے میں ترقی کے لیے جدید مشینری، پیداواری سہولتوں اور تحقیق پر سرمایہ کاری ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف بینکوں کے قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے نجی سرمایہ کاروں اور وینچر کیپیٹل کو بھی راغب کیا جائے۔
تین روزہ فارما ایشیا نمائش کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوئی، جس میں تقریباً 800 اداروں نے شرکت کی۔ نمائش میں مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں نے جدید ٹیکنالوجی، پیداواری نظام اور کاروباری شراکت داری کے مواقع پیش کیے۔
دی سیرل کمپنی کے سربراہ طاہر احمد نے بائیوٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو جدید حیاتیاتی ادویات کی تیاری اور برآمدات میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانی چاہیے۔









