ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، اسٹیفن ملر وائٹ ہاؤس کے نئے چیف آف اسٹاف مقرر

0
1
ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، اسٹیفن ملر وائٹ ہاؤس کے نئے چیف آف اسٹاف مقرر

واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد وائٹ ہاؤس میں اپنے دیرینہ اور بااعتماد مشیر اسٹیفن ملر کو نیا چیف آف اسٹاف مقرر کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیفن ملر اس عہدے پر سوسی وائلز کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انتخابی نتائج کے بعد کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے اور ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں برتری حاصل ہونے کی توقع ہے۔

انتخابات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی کے علاوہ حکومتی پالیسیوں اور مختلف معاملات پر ممکنہ کانگریسی تحقیقات کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ایسے حالات میں چیف آف اسٹاف کا عہدہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اسٹیفن ملر کی تقرری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں قابل اعتماد ساتھی قرار دیا اور سبکدوش ہونے والی سوسی وائلز کی خدمات کو بھی سراہا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق ملر کو اہم منصب دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی موجودہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کے بجائے انہیں مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔

اسٹیفن ملر کو ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کا مرکزی معمار سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے پہلے صدارتی دور میں بھی صدر کے قریبی مشیروں میں شامل تھے، جبکہ 2025 میں ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد ڈپٹی چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

ان کے زیر اثر غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں تیزی آئی۔ امریکی امیگریشن حکام نے ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے اور متعدد ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا جن کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہیں تھا۔

تاہم سخت امیگریشن اقدامات کو عوامی سطح پر مخالفت کا سامنا بھی ہے۔ رائٹرز اور اِپسوس کے ایک سروے میں 36 فیصد امریکیوں نے ان کارروائیوں کی حمایت کی، جبکہ 54 فیصد نے مخالفت کا اظہار کیا۔

ادھر ڈیموکریٹک رہنماؤں نے ملر کی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے کردار کی تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔ ایوان نمائندگان کی نگرانی اور حکومتی اصلاحات سے متعلق کمیٹی کے ڈیموکریٹ رکن رابرٹ گارشیا نے کہا ہے کہ ان کی جماعت امیگریشن پالیسیوں کا جائزہ لے گی۔

ملر کا اثر و رسوخ صرف امیگریشن تک محدود نہیں رہا۔ وفاقی اداروں میں انتظامی تبدیلیوں، سرکاری ملازمین کی برطرفیوں اور جامعات سمیت مختلف شعبوں سے متعلق حکومتی اقدامات میں بھی ان کا کردار اہم رہا ہے۔

خارجہ امور میں بھی وہ صدر ٹرمپ کے سخت مؤقف کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کی، جبکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقتصادی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات کی حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نے اس تقرری پر تنقید کرتے ہوئے ملر کے سیاسی اور انتظامی کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور ملر کو نئی ذمہ داری ملنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی شکست کے بعد اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف مقرر کرنا اس بات کی علامت ہوسکتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی بنیادی پالیسیوں میں تبدیلی کے بجائے اپنی ٹیم کو مزید وفادار اور سخت مؤقف رکھنے والے ساتھیوں کے ذریعے چلانا چاہتے ہیں۔

Leave a reply