اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت خطرے میں، گادی آئزنکوٹ کی نئی حکومت بنانے کے لیے کوششیں تیز

0
21
اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت خطرے میں، گادی آئزنکوٹ کی نئی حکومت بنانے کے لیے کوششیں تیز

تل ابیب: اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں، جبکہ موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اقتدار برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سابق آرمی چیف اور نئی سیاسی جماعت کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے مختلف جماعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل کرکے نئی مخلوط حکومت تشکیل دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اسرائیلی انتخابات میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ 120 رکنی پارلیمنٹ میں لیکود پارٹی 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، تاہم نیتن یاہو کو حکومت سازی کے لیے درکار حمایت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

گادی آئزنکوٹ کا کہنا ہے کہ وہ چار اصلاحاتی جماعتوں کے تعاون سے قومی حکومت قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی، بشرطیکہ وہ بنیادی حکومتی اصولوں سے اتفاق کریں۔

آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی اکثریت کے بغیر سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حکومتی کنٹرول برقرار رکھنا تشویش ناک ہے۔

سیاسی صورتحال میں اہم تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب نیتن یاہو کے سابق اتحادی مذہبی جماعت یہودوت ہتوراۃ نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ان کی حمایت کی سفارش کرنے سے گریز کیا۔ سات نشستوں کی حامل اس جماعت کے فیصلے کو نیتن یاہو کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ اور یونائیٹڈ عرب لسٹ نے بھی نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی روکنے کے لیے آئزنکوٹ کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس تعاون کے حوالے سے بعض اختلافات بھی موجود ہیں۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ سیاسی جماعتوں سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد پارلیمانی حمایت کی بنیاد پر حکومت سازی کا مینڈیٹ دینے والے امیدوار کا اعلان کریں گے۔

اسرائیلی آئینی طریقہ کار کے تحت نامزد امیدوار کو حکومت تشکیل دینے کے لیے ابتدائی طور پر 28 دن دیے جائیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہوگی۔

ادھر فلسطینی قیادت بھی اسرائیل میں جاری سیاسی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی اسرائیلی حکومت عالمی معاہدوں کی پاسداری کرے گی اور فلسطینی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کی جانب پیش رفت کرے گی۔

اس سیاسی پیش رفت کے نتیجے میں اسرائیل میں اقتدار کی تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، تاہم نئی حکومت کی تشکیل کا حتمی فیصلہ پارلیمانی حمایت اور صدر کے اعلان سے مشروط ہوگا۔

Leave a reply