
پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے سائبر حملوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نوجوانوں کی باقاعدہ تربیت کا ایک منظم نظام قائم کر رکھا ہے، جہاں ذہین طلبہ کو ابتدائی عمر سے ہی کمپیوٹر سائنس، پروگرامنگ اور سائبر سکیورٹی کی تعلیم دی جاتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کا سائبر پروگرام گزشتہ دو دہائیوں کے دوران غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ اس پروگرام کے تحت منتخب نوجوانوں کو اعلیٰ تکنیکی تعلیم دینے کے بعد فوجی سائبر یونٹس کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہر سال مڈل اسکول کی سطح سے تقریباً 150 سے 200 ذہین طلبہ منتخب کیے جاتے ہیں۔ ان کی عمریں عموماً 11 سے 12 سال ہوتی ہیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھیجا جاتا ہے، جہاں مزید تربیت اور جانچ کے بعد چند افراد کو سائبر آپریشنز کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔
ہیکرز کو خصوصی تربیت اور مراعات
شمالی کوریا سے فرار ہونے والے سابق تربیت کاروں کے مطابق منتخب نوجوانوں کو پروگرامنگ کے علاوہ کرپٹو کرنسی، جدید الیکٹرانک نظام، ریاضی اور غیر ملکی زبانوں کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سائبر آپریشنز میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے افراد کو مالی انعامات، پیانگ یانگ میں بہتر رہائش اور دیگر خصوصی مراعات دی جاتی ہیں۔ بعض کامیاب افراد کو حکمران جماعت کی رکنیت اور بیرون ملک سفر کے مواقع بھی فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس سروس کے 2024 کے تخمینے کے مطابق شمالی کوریا کے سائبر وارفیئر نیٹ ورک سے تقریباً 8 ہزار 400 افراد وابستہ ہیں۔
لازارس گروپ اور کرپٹو کرنسی حملے
شمالی کوریا سے منسلک سائبر گروپس میں لازارس گروپ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ امریکی حکام ماضی میں اس گروپ پر مختلف بڑے مالیاتی اور کرپٹو کرنسی حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔
ٹریڈر ٹریٹر نامی ہیکنگ نیٹ ورک کو بھی شمالی کوریا سے منسلک کیا جاتا ہے۔ سائبر سکیورٹی اداروں کے مطابق ایسے گروپس وقت کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے بڑے مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں۔
تاہم کسی مخصوص حملے میں ذمہ داری کے تعین کے لیے متعلقہ تحقیقات اور مستند شواہد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے سائبر سرگرمیوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا
رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا سے وابستہ بعض آئی ٹی کارکن جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ کوڈ اور کرسر جیسے ٹولز کو کوڈنگ، دستاویزات کی تیاری اور دیگر تکنیکی کاموں کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے حملہ آور اپنی سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں، جبکہ جعلی ملازمتوں، فرضی انٹرویوز اور ڈیجیٹل شناخت کے غلط استعمال جیسے طریقے اداروں کی سکیورٹی کے لیے نئے چیلنج پیدا کر رہے ہیں۔
سائبر پروگرام کے پیچھے معاشی مفادات
شمالی کوریا کے سائبر نیٹ ورک کو صرف تکنیکی یا فوجی صلاحیت کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کا ایک اہم پہلو معاشی بھی ہے۔
مبینہ طور پر بیرون ملک ریموٹ ملازمتیں حاصل کرنے والے آئی ٹی کارکنوں کے ذریعے بھی ملک کے لیے غیر ملکی کرنسی حاصل کی جاتی ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس میں ان کارکنوں کے طویل اوقاتِ کار، سخت نگرانی اور مالی اہداف کے دباؤ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
ماہرین کے مطابق حکومتی سرپرستی میں کام کرنے والے سائبر نیٹ ورکس سے نمٹنا عالمی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ خصوصاً کرپٹو کرنسی ایکسچینجز، بینکوں اور مالیاتی کمپنیوں کو اب صرف روایتی سکیورٹی اقدامات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ملازمین، ڈیجیٹل شناخت اور اندرونی نظاموں کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
شمالی کوریا کا سائبر پروگرام اس بات کی مثال ہے کہ جدید دنیا میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مالیات کس طرح قومی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔









