ورلڈ کپ 2026: شدید گرمی اور حبس شائقینِ فٹ بال کے لیے بڑا خطرہ قرار

0
15
ورلڈ کپ 2026: شدید گرمی اور حبس شائقینِ فٹ بال کے لیے بڑا خطرہ قرار

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے انعقاد سے قبل ماہرینِ صحت نے اسٹیڈیمز میں آنے والے لاکھوں شائقین کے لیے شدید گرمی اور حبس کو ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ نئی سائنسی تحقیق کے مطابق امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے متعدد میچز کے دوران تماشائیوں کو ہیٹ اسٹروک اور دیگر گرمی سے متعلق طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانیہ کی پورٹسماؤتھ یونیورسٹی کے محققین نے ایک خصوصی ماحولیاتی چیمبر میں ایسے موسمی حالات کا جائزہ لیا جو ورلڈ کپ کے میزبان شہروں میں متوقع ہیں۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ درجہ حرارت اور نمی کا امتزاج انسانی جسم پر شدید دباؤ ڈال سکتا ہے، خصوصاً ایسے افراد کے لیے جو طویل وقت تک کھلے ماحول میں موجود رہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کے ایک تہائی سے زائد میچز ایسے اوقات میں کھیلے جا سکتے ہیں جب گرمی اپنی شدت پر ہوگی۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں کے مقابلے میں عام شائقین زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ انہیں میچ سے قبل لمبے انتظار، سیکیورٹی مراحل اور کھلے آسمان تلے کئی گھنٹے گزارنے پڑتے ہیں۔

ماہرین نے نشاندہی کی کہ تماشائیوں میں بچے، بزرگ اور دل، شوگر یا بلڈ پریشر جیسے امراض میں مبتلا افراد بھی شامل ہوتے ہیں، جو شدید گرمی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، بیرونِ ملک سے آنے والے شائقین طویل سفر اور پانی کی کمی کے باعث اضافی خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، اگر جسمانی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے تو ہیٹ اسٹروک جیسی جان لیوا کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر ماہرین نے اسٹیڈیمز میں مزید حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر فیفا نے شائقین کے لیے چند سہولیات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جن میں پانی کی سیل بند بوتلیں ساتھ لانے کی اجازت، پانی کے اسپرے والے پنکھوں کی تنصیب اور سایہ دار مقامات کی فراہمی شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ شائقین کے مکمل تحفظ کے لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔

تحقیق کرنے والی ٹیم نے سفارش کی ہے کہ اسٹیڈیمز میں خصوصی کولنگ زونز قائم کیے جائیں، مفت پینے کے پانی کی فراہمی بڑھائی جائے اور طبی عملے کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اور مؤثر انتظامات نہ کیے گئے تو شدید گرمی ورلڈ کپ 2026 کے دوران شائقین کی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

Leave a reply