ہنی مون پر اہلِ خانہ کو ساتھ لے جانے کا فیصلہ، نوبیاہتا جوڑے کا تنازع طلاق تک پہنچ گیا

بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک نوبیاہتا جوڑے کے درمیان ہنی مون سے متعلق اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ معاملہ خاندانی مشاورت کے مرکز تک جا پہنچا، جہاں اب رشتہ بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میرٹھ کی ایک تعلیم یافتہ خاتون کی شادی دہلی کے رہائشی نوجوان سے ایک میٹرومونیئل ویب سائٹ کے ذریعے طے پائی تھی۔ شادی کے بعد جوڑا تفریحی سفر پر روانہ ہوا، تاہم دلہن کے مطابق اس سفر میں شوہر نے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو بھی شامل کر لیا۔
خاتون کا مؤقف ہے کہ ہنی مون میاں بیوی کو ایک دوسرے کو بہتر طور پر جاننے اور تعلق مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن اہلِ خانہ کی مسلسل موجودگی کے باعث انہیں اپنے شوہر کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارنے کا موقع نہیں مل سکا۔
دوسری جانب شوہر کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے خاندان کو ساتھ لے جا کر کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اس کے مطابق اس کا مقصد صرف اپنے قریبی عزیزوں کو خوشی میں شریک کرنا تھا اور وہ اس فیصلے کو غیر معمولی نہیں سمجھتا۔
رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر دونوں کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے، جس کے بعد متعدد بار کونسلنگ سیشنز منعقد کیے گئے۔ تاہم اب تک کوئی حتمی اتفاقِ رائے سامنے نہیں آ سکا۔
خاندانی مشاورت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ ملاقاتوں میں بھی مسئلے کا حل نہ نکلا تو معاملہ قانونی علیحدگی یا طلاق کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی ایک مثال بن گیا ہے کہ ازدواجی زندگی کے آغاز میں توقعات اور ترجیحات کے فرق کس طرح رشتوں میں کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں۔









