واٹس ایپ پر شناختی دستاویزات شیئر کرنا کتنا محفوظ ہے؟

0
43
واٹس ایپ پر شناختی دستاویزات شیئر کرنا کتنا محفوظ ہے؟

قومی شناختی کارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ یا دیگر حساس دستاویزات اکثر شناخت کی تصدیق کے لیے واٹس ایپ پر طلب کی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمول کا طریقہ محسوس ہوتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ذاتی نمبرز پر ایسی معلومات شیئر کرنے سے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے کئی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

دستاویز بھیجنے کے بعد کنٹرول محدود ہو جاتا ہے

واٹس ایپ پر بھیجی گئی فائل وصول کنندہ کے فون یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ وہ خودکار طور پر کلاؤڈ بیک اپ کا حصہ بھی بن جائے۔ اس کے بعد صارف کے لیے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ دستاویز کی کتنی نقول بن چکی ہیں اور وہ کہاں محفوظ ہیں۔

یہ خطرہ صرف بدنیتی رکھنے والے افراد تک محدود نہیں۔ کسی اکاؤنٹ یا ڈیوائس کے ہیک ہونے کی صورت میں پرانی محفوظ شدہ دستاویزات بھی غیر متعلقہ افراد تک پہنچ سکتی ہیں۔

شناخت اور مالی فراڈ کا خطرہ

شناختی کارڈ اور بینک سے متعلق دستاویزات میں موجود معلومات کا غلط استعمال شناخت کی چوری، جعلی اکاؤنٹس یا دیگر مالیاتی فراڈ کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ذاتی واٹس ایپ نمبرز کے ذریعے معلومات جمع کرنے سے یہ ڈیٹا کسی ادارے کے باقاعدہ سیکیورٹی نظام کے بجائے مختلف ذاتی ڈیوائسز میں پھیل سکتا ہے۔

محفوظ طریقہ کیا ہے؟

اگر کسی ادارے کو شناخت کی تصدیق کے لیے دستاویز درکار ہو تو پہلے اس کے آفیشل ذرائع کی تصدیق کریں۔ ممکن ہو تو دستاویز واٹس ایپ کے بجائے ادارے کی سرکاری ویب سائٹ، محفوظ اپ لوڈ پورٹل یا متعلقہ تصدیقی نظام کے ذریعے جمع کرائیں۔

اگر واٹس ایپ کے ذریعے دستاویز بھیجنا ناگزیر ہو تو فائل کو پاس ورڈ سے محفوظ کرنا ایک اضافی حفاظتی اقدام ہو سکتا ہے، جبکہ پاس ورڈ الگ ذریعے سے فراہم کیا جا سکتا ہے۔

صارفین کے لیے اہم احتیاط

کسی بھی شخص کو شناختی کارڈ یا مالی دستاویز بھیجنے سے پہلے اس کی شناخت، ادارے سے وابستگی اور دستاویز طلب کرنے کی وجہ کی تصدیق کریں۔ صرف اس بنیاد پر حساس معلومات شیئر نہ کریں کہ درخواست کسی معروف ادارے یا سروس کے نام پر کی گئی ہے۔

یاد رکھیں، شناختی کارڈ اور مالی دستاویزات عام فائلیں نہیں۔ انہیں شیئر کرنے سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ معلومات کس کو، کیوں اور کس محفوظ نظام کے ذریعے دی جا رہی ہیں۔

Leave a reply