امریکا، ایران کے درمیان عارضی معاہدے کی مدت ختم، کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ

0
14
امریکا، ایران کے درمیان عارضی معاہدے کی مدت ختم، کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ

تہران اور واشنگٹن کے درمیان جون میں پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں سے طے پانے والے عارضی معاہدے کی مدت ختم ہوگئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن معاہدے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ مذاکرات میں تعطل کے باعث خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

17 جون کو طے پانے والے معاہدے میں جنگ بندی اور آئندہ 60 روز کے دوران مستقل حل کی تلاش پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے اور مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔

ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی اقدامات کے بعد 60 روزہ مہلت کی توسیع کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ ایرانی عسکری قیادت کی جانب سے بھی دفاعی حکمت عملی کو مزید جارحانہ رخ دینے کے اشارے سامنے آئے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ اور پابندیوں سے تہران کے مؤقف میں تبدیلی نہیں آئے گی۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔

ایران کا مطالبہ ہے کہ معمول کی بحری آمدورفت سے قبل پابندیاں ختم کی جائیں اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، جبکہ امریکا ایران پر آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر کرنے کا الزام عائد کر رہا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان اور قطر سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو اہم قرار دیتے ہوئے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی، باہمی الزامات اور سخت مؤقف کے باعث فوری طور پر کسی نئے معاہدے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، جبکہ کشیدگی میں دوبارہ اضافے کا خطرہ برقرار ہے۔

Leave a reply