
عام طور پر لوگ پینے کے لیے فلٹر شدہ پانی استعمال کرتے ہیں، مگر کھانا پکانے میں اکثر نل کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی علاقے کے نل کے پانی کا معیار مشکوک ہو تو صرف اُبالنا اسے ہر قسم کی آلودگی سے محفوظ نہیں بناتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کو اُبالنے سے بیکٹیریا، وائرس اور بعض دیگر جراثیم ختم ہو سکتے ہیں، تاہم اس میں موجود کیمیائی آلودگیاں جیسے سیسہ، آرسینک، فلورائیڈ، نائٹریٹس اور بعض صنعتی کیمیکلز برقرار رہ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بعض صورتوں میں پانی کو زیادہ دیر تک اُبالنے سے پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث تحلیل شدہ کیمیائی مادوں کا ارتکاز نسبتاً بڑھ سکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض علاقوں کے نل کے پانی میں پی ایف اے ایس (PFAS) جیسے مصنوعی کیمیکلز اور مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان مادوں کے طویل مدتی صحت پر اثرات پر تحقیق جاری ہے، جبکہ بعض PFAS مرکبات کو صحت کے ممکنہ خطرات سے بھی جوڑا گیا ہے۔
ماہرین کی سفارش ہے کہ اگر گھر میں واٹر فلٹر موجود ہو تو پینے کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے کے لیے بھی فلٹر شدہ پانی استعمال کیا جائے۔ اگر مقامی پانی کے معیار پر خدشات ہوں تو محفوظ اور معیاری پانی کا استعمال صحت کے ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔









