میٹا کا نیا اے آئی فوٹو جنریٹر متعارف، پرائیویسی پر نئی بحث چھڑ گئی

0
18
میٹا کا نیا اے آئی فوٹو جنریٹر متعارف، پرائیویسی پر نئی بحث چھڑ گئی

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا تصویر سازی کا فیچر “Muse Image” متعارف کرا دیا ہے، جس کے ذریعے صارفین صرف تحریری ہدایات (پرامپٹس) دے کر تصاویر تیار کر سکتے ہیں، موجودہ تصاویر میں تبدیلی لا سکتے ہیں اور مختلف تخلیقی ڈیزائن بھی بنا سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق یہ فیچر واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر دستیاب ہوگا اور صارفین کو کارٹون اسٹائل تصاویر، دعوت نامے، پوسٹ کارڈز اور دیگر بصری مواد تخلیق کرنے میں مدد دے گا۔ اس میں پہلے سے موجود اسٹائلز کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق ہدایات دینے کی سہولت بھی شامل ہے۔
فیچر کے اجرا کے فوراً بعد اس کے پرائیویسی پہلوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اگر کسی صارف کا انسٹاگرام اکاؤنٹ عوامی (پبلک) ہے تو دوسرے افراد مخصوص طریقہ کار کے ذریعے اس کی عوامی تصاویر سے متاثر ہو کر اے آئی سے نئی تصاویر تیار کر سکتے ہیں۔
اس معاملے پر متعدد سوشل میڈیا صارفین نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی پروفائلز سے متعلق ایسے فیچرز ذاتی رازداری کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ صارفین اگر اپنی تصویر کو اس مقصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنا چاہتے ہیں تو وہ متعلقہ پرائیویسی سیٹنگز تبدیل کر سکتے ہیں یا اپنا اکاؤنٹ پرائیویٹ کر سکتے ہیں۔ تاہم کمپنی کے مطابق پہلے سے تیار کی گئی تصاویر کو بعد میں حذف نہیں کیا جا سکے گا۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ “Muse Image” کے ساتھ انسٹاگرام اسٹوریز کے لیے نئے اے آئی ایفیکٹس بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن کی مدد سے تصاویر کے رنگ، انداز اور دیگر بصری خصوصیات تبدیل کی جا سکیں گی۔
میٹا کے مطابق یہ سروس ابتدائی طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہے، تاہم زیادہ استعمال کی صورت میں صارفین کو انتظار کرنا پڑ سکتا ہے یا پھر کمپنی کے بامعاوضہ پلانز اختیار کرنے ہوں گے۔
کمپنی مستقبل میں اس فیچر کو فیس بک اور میسنجر تک بھی توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ اے آئی ویڈیو بنانے والے ایک نئے ٹول پر بھی کام جاری ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی میٹا کو صارفین کے ڈیٹا اور پرائیویسی سے متعلق مختلف قانونی اور ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔

Leave a reply