مکہ، جدہ اور طائف میں ممکنہ حوثی حملوں کا خدشہ، سعودی حکام کا شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ

سعودی عرب کے مغربی علاقوں میں ممکنہ سکیورٹی خطرے کے پیش نظر حکام نے جدہ، مکہ مکرمہ اور طائف سمیت مختلف شہروں کے شہریوں اور غیر ملکی مقیم افراد کے لیے ہنگامی حفاظتی ہدایات جاری کیں۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں کھلی جگہوں سے دور رہیں اور عمارتوں کے ایسے اندرونی حصوں میں منتقل ہو جائیں جہاں کھڑکیوں، بالکونیوں اور چھتوں سے فاصلہ ہو۔
کھلے مقامات پر موجود افراد کو قریبی محفوظ عمارت یا مضبوط دیوار کی آڑ لینے کا مشورہ دیا گیا، جبکہ شاہراہوں پر موجود ڈرائیوروں سے کہا گیا کہ وہ گاڑیاں بلند عمارتوں اور پلوں سے دور سڑک کے کنارے محفوظ مقام پر روک دیں۔
حکام نے عوام پر زور دیا کہ غیر ضروری اجتماعات سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کریں۔ بعد ازاں حکام نے اعلان کیا کہ جاری کیا گیا الرٹ ختم ہو گیا ہے۔
اس سے قبل بھی سعودی عرب کے متعدد علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد حفاظتی الرٹس جاری کیے گئے تھے۔ سعودی حکام کے مطابق خمیس مشیط، ابہا اور طائف سمیت بعض علاقوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کوششیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور کچھ املاک کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب یمن میں بھی سعودی کارروائیوں میں شدت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے متعدد علاقوں میں حوثی اہداف کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں سے متعلق مختلف فریقوں کی جانب سے جانی نقصان کے متضاد دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
علاقائی صورتحال میں اس وقت مزید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ باب المندب اور دیگر اہم بحری راستوں کی سکیورٹی بھی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
دریں اثنا، علاقائی سفارتی ذرائع کے حوالے سے یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ سعودی قیادت نے خطے کے بعض ممالک اور دیگر اتحادیوں سے دفاعی و انٹیلی جنس تعاون بڑھانے کی درخواست کی ہے۔








