مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی، واشنگٹن اور تہران کے درمیان تناؤ میں اضافہ

تازہ اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے بعض فوجی اہداف کے خلاف فضائی اور میزائل کارروائیاں کیں، جنہیں واشنگٹن نے اپنے دفاع میں اٹھایا گیا اقدام قرار دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب واقع بعض ریڈار اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ مختلف ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق جنوبی ایران کے متعدد علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
کئی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے سے متعلق اہداف پر ڈرون حملے کیے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں بعض شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا، جن میں مواصلاتی ڈھانچے اور پانی ذخیرہ کرنے کی سہولیات شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائی محدود اور متناسب نوعیت کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اپنے فوجی اثاثوں پر حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باوجود ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی مذاکرات اور معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اقدامات کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے سفارتی رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہ ہونے کو کشیدگی کم کرنے کے امکانات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔









