
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی کے کیس میں تفتیش کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ایک متاثرہ خاتون سے متعلق کیس میں تین ملزمان کے ڈی این اے نمونے فارنزک تجزیے میں میچ کر گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کے ڈی این اے نمونے فارنزک لیبارٹری بھجوائے تھے، جبکہ دیگر نمونوں کا تجزیہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ایک ملزم پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر پہلے متاثرہ خاتون کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دیگر ملزمان بھی مبینہ طور پر واقعے میں شامل ہوئے۔ تاہم ان الزامات کی حتمی تصدیق عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگی۔
دریں اثنا، واقعے کے دوران مبینہ طور پر ٹکر کا شکار ہونے والی گاڑی کے مالک نے بھی متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ مقدمے کے مطابق مدعی کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹ روڈ پر ایک گاڑی کی ٹکر سے اس کی گاڑی کو مالی نقصان پہنچا، جبکہ دوسری گاڑی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔ پولیس کے مطابق اسی اطلاع پر اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔
ادھر اسی کیس سے متعلق ایک علیحدہ پیشرفت میں ڈیفنس سی کے ایس ایچ او نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے۔ سیشن کورٹ لاہور نے انہیں 10 جولائی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے پولیس سے جواب طلب کیا ہے اور ملزم کو تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
کیس کی تفتیش جاری ہے، جبکہ تمام الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی اور دستیاب شواہد کی روشنی میں کیا جائے گا۔









