غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد، 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

0
6
غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد، 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد، 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

اسلام آباد: پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے سے متعلق اسرائیلی حکام کے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جبری منتقلی کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی آبائی سرزمین سے منتقل کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق اسرائیلی وزرا کے بیانات نہ صرف تشویش ناک ہیں بلکہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ آٹھوں ممالک نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کو عملی شکل دینے کے خطے میں امن و استحکام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، اس لیے غزہ کو مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جائے گی۔

وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے اپنی سرزمین پر موجود رہنے اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی مسئلے کو ختم کرنے یا ان کے جائز حقوق محدود کرنے کی کوششیں قابل قبول نہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ غزہ میں جاری تنازع کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں کو کسی بھی ایسے اقدام سے نقصان پہنچ سکتا ہے جو فلسطینی آبادی کو ان کے علاقوں سے منتقل کرنے کا باعث بنے۔

آٹھوں ممالک نے ایک بار پھر دو ریاستی حل کو مسئلے کے پائیدار اور منصفانہ حل کا بنیادی راستہ قرار دیا۔ انہوں نے 4 جون 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کی۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادیاتی یا جغرافیائی صورتحال تبدیل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

آٹھوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر آباد رہنے اور اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے مکمل حمایت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

Leave a reply