انڈر ورلڈ کی دھمکیوں کے سامنے شاہ رخ خان ڈٹ گئے، ’گولی مارنی ہے تو مار دو

0
4
انڈر ورلڈ کی دھمکیوں کے سامنے شاہ رخ خان ڈٹ گئے، ’گولی مارنی ہے تو مار دو

ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار شاہ رخ خان نے 1990 کی دہائی میں مبینہ طور پر انڈر ورلڈ کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے باوجود اپنے پیشہ ورانہ فیصلوں پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ہدایتکار سنجے گپتا نے ایک پوڈ کاسٹ گفتگو کے دوران اس دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ فلمی صنعت میں انڈر ورلڈ کا اثر خاصا نمایاں تھا اور بعض فنکاروں پر اپنی مرضی کے منصوبوں میں کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔

سنجے گپتا کے مطابق شاہ رخ خان نے مبینہ دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے بجائے انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکار نے واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی دباؤ میں اپنی مرضی کے خلاف فلم یا پروگرام کا حصہ نہیں بنیں گے۔

ہدایتکار کے مطابق شاہ رخ خان کے اس رویے نے انہیں دھمکیاں دینے والے عناصر پر بھی اثر ڈالا اور اداکار کے لیے ایک خاص احترام پیدا ہوا، کیونکہ وہ خوف کے باوجود اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

اس عرصے کے دوران شاہ رخ خان کی سیکیورٹی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی تھی۔ دستیاب روایات کے مطابق انہیں کئی برس تک پولیس تحفظ فراہم کیا گیا، جبکہ ان کی حفاظت کے لیے ذاتی سیکیورٹی بھی تعینات رہی۔

شاہ رخ خان کی سوانحی کتاب میں بھی 1990 کی دہائی کے دوران ان کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطابق 1997 میں فلم ’ڈپلیکیٹ‘ کی شوٹنگ کے دوران ان کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا، جس کے بعد انہیں سرکاری سطح پر پولیس پروٹیکشن دی گئی۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آتا ہے کہ گینگسٹر ابو سالم نے ایک موقع پر شاہ رخ خان سے فون پر رابطہ کیا اور ایک مخصوص پروڈیوسر کے منصوبے میں کام کرنے کے معاملے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ تاہم اداکار نے مبینہ طور پر اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے سے انکار کر دیا۔

یوں 1990 کی دہائی کے مشکل دور میں شاہ رخ خان نے مبینہ دھمکیوں کے باوجود اپنے پیشہ ورانہ فیصلوں پر قائم رہنے کا مؤقف اپنایا، جبکہ ان کی سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کیے گئے۔ یہی بے خوف رویہ آج بھی ان کے کیریئر کے نمایاں واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

Leave a reply