طوفان پولو کے مرکز میں ہریکین ہنٹر کی پرواز، آنکھ کے اندر حیران کن منظر

0
0
طوفان پولو کے مرکز میں ہریکین ہنٹر کی پرواز، آنکھ کے اندر حیران کن منظر

شدید سمندری طوفانوں کے دوران جہاں عام مسافر طیارے حفاظتی طور پر اپنا راستہ تبدیل کرتے ہیں، وہیں خصوصی موسمیاتی طیارے طوفان کے عین اندر جا کر ایسے اعداد و شمار جمع کرتے ہیں جو موسم کی پیش گوئی اور ممکنہ نقصانات سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے ہریکین ہنٹر طیارے نے طاقتور سمندری طوفان پولو کے اندر پرواز کرتے ہوئے اس کی ساخت، ہواؤں اور فضائی حالات کا براہِ راست جائزہ لیا۔

طوفان کے بیرونی حصے سے اندر کی جانب بڑھتے ہوئے طیارے کو شدید ہواؤں اور جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم جب طیارہ آئی وال عبور کرکے طوفان کی آنکھ میں داخل ہوا تو حالات ڈرامائی طور پر تبدیل ہوگئے۔ اندر نسبتاً پرسکون فضا اور اوپر صاف آسمان دکھائی دیا، جبکہ چاروں طرف بادلوں کی بلند دیوار ایک بڑے گول دائرے کی شکل میں نظر آئی۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق طوفان کی آنکھ کے گرد بادلوں کا یہ بلند حلقہ بعض اوقات ’’اسٹیڈیم ایفیکٹ‘‘ پیدا کرتا ہے، جس میں طوفان کے اندر سے اوپر کی جانب دیکھنے پر بادل کسی وسیع اسٹیڈیم کی نشستوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

طوفان کے اندر کیوں جاتے ہیں؟

ہریکین ہنٹر مشنز کا مقصد محض طوفان کا مشاہدہ کرنا نہیں بلکہ ایسے سائنسی اعداد و شمار حاصل کرنا ہے جو سیٹلائٹ یا زمین پر موجود آلات سے مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

NOAA کے خصوصی WP-3D Orion طیارے اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے آلات نصب ہیں جو ہوا کی رفتار، دباؤ، درجہ حرارت، نمی اور دیگر موسمیاتی عوامل کی پیمائش کرتے ہیں۔

پرواز کے دوران ماہرین ’’ڈراپ سونڈ‘‘ نامی آلات بھی فضا میں چھوڑتے ہیں۔ یہ چھوٹے آلات پیراشوٹ کے ذریعے نیچے آتے ہوئے مختلف بلندیوں پر موجود ماحول کی معلومات ریکارڈ کرتے ہیں اور ڈیٹا طیارے تک منتقل کرتے ہیں۔

بعد ازاں یہی معلومات موسم کی پیش گوئی کرنے والے جدید کمپیوٹر ماڈلز میں شامل کی جاتی ہیں، جس سے ماہرین کو طوفان کی سمت اور شدت کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔

پولو کی شدت میں اتار چڑھاؤ

طوفان پولو نے اپنی زیادہ سے زیادہ شدت کے دوران انتہائی طاقتور ہواؤں کا سامنا کیا۔ مشاہدات کے مطابق طوفان کے مرکز کے قریب ہواؤں کی رفتار تقریباً 266 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی تھی۔

بعد کے مشاہدات میں تقریباً 240 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ہوائیں بھی ریکارڈ ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق اس دوران طوفان میں ’’آئی وال ریپلیسمنٹ سائیکل‘‘ کا عمل جاری تھا۔

اس عمل میں طوفان کے مرکز کے گرد موجود پرانی آئی وال کمزور پڑ سکتی ہے جبکہ اس کے باہر نئی آئی وال بننے لگتی ہے۔ اس دوران طوفان کی شدت میں عارضی کمی یا اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

خلا سے بھی نظر آیا طوفان

پولو کی جسامت اور ساخت کا مشاہدہ زمین کے علاوہ خلا سے بھی کیا گیا۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے لی گئی تصاویر میں طوفان کے گرد پھیلے ہوئے وسیع بادل اور مرکز میں موجود نسبتاً صاف آنکھ نمایاں تھی۔

خلا سے حاصل ہونے والی تصاویر نے طوفان کے بڑے پیمانے اور اس کی گول ساخت کو مزید واضح کیا۔

طوفان کے دوران میکسیکو کے جنوب مغربی ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اچانک سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود رہا۔

ہریکین ہنٹرز کی ایسی پروازوں سے حاصل ہونے والا براہِ راست ڈیٹا موسمیاتی اداروں کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے، کیونکہ اس کی مدد سے طوفان کی حقیقی شدت اور اندرونی ساخت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور متاثرہ علاقوں کے لیے بروقت وارننگ جاری کرنے میں مدد ملتی ہے۔

Leave a reply