
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز منتقل کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ عمران خان کو مقررہ اسپتال کے بجائے کسی دوسرے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ واضح تھا اور اس پر اسی طرح عمل درآمد ہونا چاہیے تھا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اگر عدالتی فیصلے میں کوئی ابہام موجود تھا تو اس کے لیے نظرثانی کی درخواست دائر کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی فریق مسائل کا حل نکلنے نہیں دینا چاہتا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ماہر امراض چشم، امراض قلب اور دیگر ماہر ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق معائنے کے دوران شفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ طبی جانچ مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے عمران خان کو طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی طبی معائنے کے دوران موجود رہیں۔ تمام ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد عمران خان کو جمعہ کی صبح تقریباً 5 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا گیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ شفا اسپتال کے راستے اور اطراف میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث مقام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔









