سیاست کی تاریخ بدلی، عوام کا مقدر نہیں

0
4

پاکستان کی سیاست میں تاریخیں بدلنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن ہر بدلی ہوئی تاریخ اپنے ساتھ کئی نئے سوالات ضرور لے کر آتی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، مگر اب سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اس احتجاج کو 5 اکتوبر تک مؤخر کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

چند روز پہلے تک پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کی تاریخ کو حتمی قرار دیا جا رہا تھا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پارٹی رہنماؤں کی جانب سے کارکنوں کو تیاریوں کی ہدایات دی گئیں اور یہ مؤقف سامنے آتا رہا کہ مقررہ تاریخ میں تبدیلی نہیں ہوگی۔

پھر اچانک سیاسی منظرنامے نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔

اب سوال یہ نہیں کہ لانگ مارچ 27 ستمبر کو ہوگا یا 5 اکتوبر کو، اصل سوال یہ ہے کہ اس تاریخ کی تبدیلی کے پیچھے سیاسی حکمتِ عملی کیا ہے؟ کیا پارٹی مزید تیاری چاہتی ہے؟ کیا اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملانے کے لیے وقت درکار ہے؟ کیا حکومت کے ساتھ مذاکرات کا کوئی راستہ نکالا جا رہا ہے؟ یا پھر موجودہ سیاسی اور انتظامی حالات نے تحریک انصاف کو اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامے کو مزید واضح کریں گے۔

دوسری طرف حکومت بھی پہلے ہی اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات سخت کر چکی تھی۔ رپورٹس کے مطابق رینجرز کی تعیناتی 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک کے لیے منظور کی گئی تھی۔

یعنی ایک طرف سیاسی جماعت احتجاج کی تیاری کر رہی تھی اور دوسری طرف ریاستی ادارے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے انتظامات میں مصروف تھے۔ ایسے ماحول میں تاریخ کا آگے بڑھ جانا صرف کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیلی بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

لیکن اس تمام سیاسی کشمکش کے درمیان ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے مسائل ہر نئی سیاسی تاریخ کے ساتھ پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور وہ ہے عام پاکستانی۔

غریب آدمی کے لیے یہ زیادہ اہم نہیں کہ لانگ مارچ 27 ستمبر کو ہوگا یا 5 اکتوبر کو۔ اس کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آٹا کتنا مہنگا ہے، بجلی کا بل کتنا آیا ہے، گھر کا کرایہ کیسے ادا ہوگا، بچوں کی فیس کہاں سے آئے گی اور ماہانہ آمدن مہینے کے آخر تک کیوں نہیں پہنچتی۔

سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مطالبات لے کر سڑکوں پر آتی ہیں، حکومت اپنی پوزیشن بچانے کے لیے انتظامات کرتی ہے، کارکن نعرے لگاتے ہیں، قیادت تقاریر کرتی ہے، مذاکرات کے دروازے کھلتے اور بند ہوتے ہیں، مگر عام شہری اپنی زندگی کے بنیادی مسائل کے درمیان پستا رہتا ہے۔

پاکستان کو اس وقت ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں اختلافِ رائے ضرور ہو، احتجاج کا حق بھی ہو، حکومت سے سوال بھی کیے جائیں اور اپوزیشن اپنا مؤقف بھی پیش کرے، لیکن اس سب کے ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ سیاسی محاذ آرائی کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟

جب شاہراہیں بند ہوتی ہیں تو روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور متاثر ہوتا ہے۔ جب کاروباری سرگرمیاں رکتی ہیں تو دکاندار متاثر ہوتا ہے۔ جب شہروں میں آمدورفت محدود ہوتی ہے تو مریض، طالب علم، ملازم اور عام شہری مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ جب سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے تو سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

اس لیے لانگ مارچ ہو یا دھرنا، جلسہ ہو یا احتجاج، سیاسی جماعتوں اور حکومت دونوں کے لیے سب سے اہم ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ سیاسی اختلاف کو عوامی مشکلات میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔

تحریک انصاف کے لیے بھی 5 اکتوبر کی نئی تاریخ ایک سیاسی چیلنج ہوگی۔ اگر مارچ ہوتا ہے تو اسے پرامن اور آئینی دائرے میں رکھنے کی ذمہ داری پارٹی قیادت اور کارکنوں دونوں پر ہوگی۔ خود پی ٹی آئی نے بھی حالیہ دنوں میں کارکنوں کو کسی بھی قسم کا ہتھیار یا تشدد ساتھ نہ رکھنے کی ہدایات دینے کی بات کی ہے۔

حکومت کے لیے بھی امتحان کم نہیں۔ احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات اپنی جگہ، مگر سیاسی مسائل کا مستقل حل صرف سڑکیں بند کرنے یا سیکیورٹی بڑھانے سے نہیں نکلتا۔ سیاسی اختلاف کا دیرپا راستہ بالآخر مذاکرات، پارلیمانی عمل اور آئینی اداروں سے ہی نکلتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی سیاسی اور معاشی دباؤ کے کئی مراحل سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں ایک اور طویل سیاسی محاذ آرائی ملک کے لیے کیا اثرات لے کر آئے گی، اس پر سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔

لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے 5 اکتوبر ہوگئی، مگر عوام کے سوالات کی تاریخ نہیں بدلی۔

مہنگائی آج بھی موجود ہے۔

بے روزگاری آج بھی موجود ہے۔

بجلی اور دیگر بنیادی اخراجات کا مسئلہ آج بھی موجود ہے۔

سیاسی تقسیم آج بھی موجود ہے۔

اور سب سے بڑھ کر عام آدمی آج بھی یہ سوال پوچھ رہا ہے:

میری باری کب آئے گی؟

حکومت بدلے، اپوزیشن احتجاج کرے، سیاسی جماعتیں مذاکرات کریں یا لانگ مارچ کی تاریخ آگے پیچھے ہو، عوام کو آخرکار نتیجہ چاہیے۔ انہیں ایسی سیاست چاہیے جو صرف اقتدار کی جنگ نہ ہو بلکہ ان کے گھر کے چولہے، بچوں کے مستقبل، روزگار، تعلیم، صحت اور عزتِ نفس کی بات بھی کرے۔

لانگ مارچ کی نئی تاریخ 5 اکتوبر ہوسکتی ہے، لیکن پاکستان کے عام شہری کے صبر کی کوئی نئی تاریخ مقرر نہیں کی جاسکتی۔

اس لیے اصل ضرورت تاریخ بدلنے کی نہیں، سیاست کا انداز بدلنے کی ہے۔

کیونکہ قومیں صرف جلسوں، دھرنوں اور مارچوں سے نہیں بنتیں؛ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب سیاسی قیادت اختلاف کے باوجود ریاست، معیشت اور عوام کو مقدم رکھے۔

Leave a reply