
کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 33 مسلح افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 21 ستمبر سے صوبے میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مختلف آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 24 ستمبر کو شعبان کے علاقے میں ہونے والے آپریشن میں مزید 5 مسلح افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 ہوگئی۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی کے دوران مبینہ ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
حکام کے مطابق شعبان میں علاقے کی کلیئرنس کا عمل جاری ہے اور اسے سیکیورٹی کلیئرنس مکمل ہونے تک جاری رکھنے کا بتایا گیا ہے۔
دوسری کارروائی 25 ستمبر کو نوشکی میں کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات پر ہونے والی کارروائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 11 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔
فوج کے مطابق یہ کارروائیاں آپریشن عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہیں۔ حکام نے دہشت گرد عناصر کے ساتھ مبینہ غیرملکی معاونت کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
صدرِ مملکت کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
صدر مملکت کے مطابق شعبان میں کارروائی کے دوران دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر ایکشن لیا گیا جبکہ مبینہ ٹھکانوں سے اسلحہ اور بارودی مواد کی برآمدگی بھی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گرد عناصر کے عزائم ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاک افغان سرحدی واقعے پر پاکستان کا مؤقف
ادھر وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے اسپن بولدک کے قریب پاکستانی چوکی کو نشانہ بنانے سے متعلق افغان وزارت دفاع کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے جاری کردہ فیکٹ چیک کے مطابق 24 اور 25 ستمبر کی درمیانی شب گلستان سیکٹر میں مبینہ افغان کارروائی کو ناکام بنایا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی بعض چوکیوں کو نقصان پہنچا۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے دوران کم از کم 13 افغان طالبان اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ وزارت کے مطابق واقعے سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز بھی دستیاب ہیں، جنہیں اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکومت نے افغان وزارت دفاع کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے سے متعلق اس کے پاس اپنے دعوے کے حق میں شواہد موجود ہیں۔









