پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر، حتمی اعلان مشاورت کے بعد ہوگا

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کو ہونے والے مجوزہ لانگ مارچ کو 5 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان اپوزیشن کی پارلیمانی قیادت سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہونے والے اجلاس کی صدارت چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کی، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، کابینہ ارکان اور دیگر پارلیمانی رہنما شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں لانگ مارچ کی تاریخ اور حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ بعض رہنماؤں کی جانب سے یہ تجویز بھی دی گئی کہ مارچ کی حتمی تاریخ کے بجائے مختلف تاریخوں کا اعلان کرکے حکومت پر سیاسی دباؤ برقرار رکھا جائے۔
اجلاس میں پارٹی کے اندر 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں سے متعلق تحفظات بھی سامنے آئے۔ بعض رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے 27 ستمبر کی تاریخ کا اعلان مکمل مشاورت کے بغیر کیا تھا۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے بعض ارکان نے لانگ مارچ مؤخر کرکے اکتوبر کے آغاز میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز دی۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی نے 5 اکتوبر کو لانگ مارچ کے لیے نئی تاریخ کے طور پر زیرِ غور لانے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس کا حتمی اعلان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ ہر صورت ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت راستے بند کرے یا رکاوٹیں کھڑی کرے، پارٹی اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سے متعلق مشاورت ابھی جاری ہے اور حتمی فیصلے سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
گورنر خیبرپختونخوا کا گورنر راج سے متعلق بیان
ادھر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر مشاورت جاری ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ گورنر راج کا نفاذ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ممکن ہے اور ماضی میں مختلف صوبوں میں اس کا نفاذ ہو چکا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صوبے میں کرپشن، بدامنی اور دہشت گردی کے مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے صوبائی پولیس کی تنخواہوں سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ صوبائی حکومت پولیس کو سیاسی فورس میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی احتجاج کے لیے مطلوبہ تیاری نظر نہیں آ رہی اور بعض کارکن گرفتاریاں دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کے معاملے پر اپنی حکمت عملی تبدیل کر سکتی ہے۔









