جرمنی میں جن زی کی احتجاجی تحریک زور پکڑنے لگی، 34 شہروں میں مظاہروں کا اعلان

0
39
جرمنی میں جن زی کی احتجاجی تحریک زور پکڑنے لگی، 34 شہروں میں مظاہروں کا اعلان

برلن: جرمنی میں نوجوانوں کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک نے زور پکڑ لیا ہے، جہاں ہفتے کے روز ملک کے 34 شہروں میں بڑے مظاہروں کی تیاریاں جاری ہیں۔ منتظمین نے ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کی شرکت کی توقع ظاہر کی ہے۔

جرمنی میں نوجوانوں کی تنظیم ’جن زی ریگلٹ‘ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ان مظاہروں کا مقصد نوجوان نسل کو درپیش معاشی، تعلیمی اور سماجی مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانا ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت تعلیمی سہولیات بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کرے، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں کمی کے اقدامات کرے اور نوجوانوں پر بڑھتے ہوئے معاشی و سماجی دباؤ کو کم کرے۔

احتجاج میں شامل نوجوان لازمی فوجی سروس کے منصوبوں پر بھی تحفظات رکھتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ان کی آواز کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت 34 شہروں میں ہونے والے یہ مظاہرے یورپ میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا تسلسل قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل سربیا میں طلبہ کی احتجاجی تحریک نمایاں سیاسی تبدیلیوں کا سبب بنی، جبکہ فرانس میں نوجوانوں کے مظاہروں کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔

جرمن حکام نے حالیہ احتجاج کو مجموعی طور پر پُرامن رہنے کی امید ظاہر کی ہے، تاہم سیکیورٹی اداروں کو خدشہ ہے کہ بعض انتہا پسند عناصر مظاہروں سے فائدہ اٹھا کر بدامنی پھیلانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوسیک نے فرانس میں ہونے والے پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ احتجاج کے دوران دکانوں، گھروں اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات سے بچنا ضروری ہے۔

ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کے پیش نظر برلن کی معروف تجارتی شاہراہ کرفورسٹنڈام پر بعض کاروباری مراکز نے اپنی دکانوں کے شیشوں کو حفاظتی انتظامات کے تحت ڈھانپ دیا ہے، جبکہ کچھ دکانداروں نے احتجاج کے روز کاروبار جلد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب احتجاجی منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک کا مقصد کسی قسم کی بدامنی پھیلانا نہیں بلکہ نوجوانوں کو درپیش مسائل کو قومی سطح پر زیر بحث لانا اور حکومت کو ان کے حل کے لیے اقدامات پر آمادہ کرنا ہے۔

Leave a reply