
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور خطے میں استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں منعقد ہونے والے مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے مثبت رویے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں شامل ممالک اور سوئس حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دفتر خارجہ کے حکام کی کوششوں کو بھی سراہا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ایک ابتدائی روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا ہے جس کے تحت آئندہ ساٹھ روز میں ممکنہ امن معاہدے کے لیے مزید بات چیت جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی نگرانی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو مختلف تکنیکی اور سیاسی امور کا جائزہ لے گی۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں سمیت اہم معاملات پر خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، جو اپنی پیش رفت سے متعلق رپورٹس متعلقہ کمیٹی کو پیش کریں گے۔
علاقائی سلامتی کے حوالے سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے کا نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اسی طرح لبنان کی صورتحال سے متعلق کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تنازعات سے بچاؤ کے لیے ایک مشترکہ رابطہ سیل بنانے کی تجویز پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور ایران کے کچھ منجمد مالی وسائل تک رسائی کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملک کی اقتصادی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کو تقویت ملے گی۔
اگرچہ متعدد معاملات پر مزید مذاکرات درکار ہیں، تاہم پاکستان اور قطر نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔









